پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں، اپریل میں 324 ملین ڈالر کا نقصان

Calender Icon منگل 19 مئی 2026

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ اپریل میں دوبارہ خسارے میں چلا گیا ہے، جس نے مالیاتی دباؤ اور بیرونی کھاتوں کی کمزوری کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اپریل میں 324 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ ہوا، جب کہ مارچ میں اسی اکاؤنٹ میں 1.1 ارب ڈالر کا سرپلس آیا تھا، جو صورتحال میں تیزی سے تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں

مالی سال 2026 کے پہلے 10 ماہ میں مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ 252 ملین ڈالر کے معمولی خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 1.7 ارب ڈالر کا سرپلس موجود تھا۔ یہ تبدیلی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں اضافے کی واضح علامت ہے۔

درآمدات میں غیر معمولی اضافہ

اپریل میں پاکستان کی مجموعی درآمدات 5.97 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اگست 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق یہ رقم 6.5 ارب ڈالر کے قریب بھی جا سکتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

تیل اور توانائی بل سب سے بڑا دباؤ

درآمدات میں اضافہ بنیادی طور پر تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔ اپریل میں صرف تیل کا بل 1.8 ارب ڈالر رہا، جبکہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ ایل این جی کی عدم دستیابی کے باوجود مجموعی توانائی بل بلند ترین سطح کے قریب ہے۔

مزیدپڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مستحکم، سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرنے لگے

بڑھتا تجارتی خسارہ اور کمزور برآمدات

تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو جون 2022 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ ماہانہ بنیاد پر اس میں 44 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 29 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس برآمدات میں کمی اور محدود نمو نے دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

سروسز اور ترسیلاتِ زر کا جزوی سہارا

سروسز سیکٹر نے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے، جہاں سروسز برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور یہ 8.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تاہم اصل سہارا ترسیلاتِ زر ہیں، جو 8 فیصد اضافے کے ساتھ 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ جی سی سی ممالک سے آنے والی ترسیلات اس میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔

معیشت پر مجموعی دباؤ اور آئندہ چیلنجز

مجموعی تجارتی خسارہ 29 ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے، جبکہ اشیاء کی درآمدات 52.7 ارب ڈالر اور برآمدات 25.8 ارب ڈالر رہیں۔ ماہرین کے مطابق معیشت کا انحصار بڑھتی ہوئی ترسیلات اور درآمدی دباؤ کے درمیان توازن پر ہے، اور اگر ترسیلات کم ہوئیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

پالیسی ردعمل اور مستقبل کا منظرنامہ

مہنگائی میں اضافے کے باعث اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا ہے، جبکہ مزید سخت فیصلوں کا امکان بھی موجود ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے عرصے میں شرح سود میں اضافہ، درآمدات پر کنٹرول اور روپے کی قدر میں ایڈجسٹمنٹ جیسے اقدامات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔