پاکستان نے تقریباً 18 سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا بڑا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بدھ کے روز 23 گہرے سمندری بلاکس کے معاہدوں پر باضابطہ دستخط کیے گئے، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
یہ بلاکس بحیرۂ عرب میں تقریباً 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور ان کا تعلق سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے قریب انڈس اور مکران بیسنز سے ہے۔ ان میں سے زیادہ تر علاقے اب تک مکمل طور پر غیر دریافت شدہ ہیں، جس کے باعث یہ منصوبہ ایک بڑے امکانات اور ساتھ ہی بڑے رسک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سرمایہ کاری اور کمپنیوں کی تقسیم
معاہدوں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ اگر ابتدائی سروے مثبت ثابت ہوتے ہیں تو یہ رقم بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:اے لیول میتھس کا امتحان دوبارہ ہوگا، کیمبرج نے نئی تاریخ کااعلان کردیا
حصص کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے:
ماری انرجیز نے سب سے بڑا حصہ حاصل کرتے ہوئے 18 بلاکس لیے، جن میں سے وہ بیشتر میں آپریٹر بھی ہے۔
او جی ڈی سی ایل نے 8 بلاکس حاصل کیے۔
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی 8 بلاکس اپنے نام کیے۔
پرائم گلوبل انرجیز کو ایک بلاک بطور آپریٹر دیا گیا۔
حکومت کا مؤقف
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کے توانائی شعبے پر اعتماد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدے نہ صرف ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہوں گے بلکہ طویل مدت میں درآمدی تیل پر انحصار بھی کم کر سکتے ہیں۔
طویل وقفے کے بعد اہم واپسی
پاکستان میں سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کا یہ نیا مرحلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک میں تقریباً دو دہائیوں سے آف شور ایکسپلوریشن کا عمل سست روی کا شکار تھا۔ اب حکومت اس شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مقامی وسائل سے توانائی کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس 2 لاکھ 82 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ آف شور علاقہ موجود ہے، لیکن آزادی کے بعد سے اب تک صرف 18 کنویں کھودے گئے ہیں، جو اس شعبے میں موجود غیر استعمال شدہ امکانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی پس منظر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں توانائی کے نئے ذرائع کی تلاش بڑھ رہی ہے۔ جغرافیائی کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور توانائی کے تحفظ کے خدشات نے ممالک کو اپنے مقامی ذخائر پر توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
مجموعی اہمیت
یہ معاہدے پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر ابتدائی نتائج مثبت آتے ہیں تو نہ صرف ملکی توانائی بحران میں کمی آ سکتی ہے بلکہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔












جمعرات 21 مئی 2026 