مسجد اقصیٰ کے انتظام سے متعلق مبینہ امریکی و اسرائیلی منصوبہ

Calender Icon منگل 26 مئی 2026

مسجد اقصیٰ (Al-Aqsa Mosque )کے انتظامی اختیارات سے متعلق ایک ممکنہ امریکی و اسرائیلی منصوبے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق اس کی موجودہ انتظامی حیثیت میں تبدیلی پر غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ United States اور Israel ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت مسجد اقصیٰ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لاتے ہوئے اسے ایک نئے ادارے کے تحت لایا جا سکتا ہے، جو مختلف مذاہب کے لیے مشترکہ حیثیت رکھتا ہو۔

ذرائع کے مطابق اس تجویز میں موجودہ اردنی نگرانی میں کام کرنے والے اسلامی اوقاف کے کردار میں ردوبدل اور ایک نئے انتظامی فریم ورک کی تشکیل کی بات کی گئی ہے، جس میں اسرائیل کو بعض انتظامی امور میں کردار ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جیسے تقرریوں اور انتظامی معاملات میں شمولیت۔

مزید پڑھیں؛ایران کا ہرمزگان میں مبینہ خلاف ورزی پر جواب دینے کا اعلان

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض تجویزوں کے تحت مسجد اقصیٰ کو ایک مذہبی کے ساتھ ساتھ سیاحتی اور کثیر المذاہب مرکز کے طور پر پیش کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مختلف فریقین میں اختلافات موجود ہیں۔

دوسری جانب کچھ خلیجی ذرائع کے مطابق Saudi Arabia اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ اس معاملے پر خطے میں حساسیت اور تشویش بھی پائی جاتی ہے۔