ایران (Iran) کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے ایک بار پھر دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا معاملہ زیرِ غور نہیں۔
روسی دارالحکومت ماسکو میں بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے علی باقری نے کہا کہ
“یہ معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔”
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مزید پڑھیں؛جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے، 31 افراد جاں بحق
ادھر ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی محاذ پر ناکامی کے بعد مخالف قوتیں اب ہائبرڈ وارفیئر کا سہارا لے رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا معاملہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 60 فیصد افزودگی اب بھی ایٹمی ہتھیاروں کے معیار یعنی 90 فیصد سے کم ہے، تاہم اس سطح کے بعد ہتھیاروں کے درجے کی افزودگی تک پہنچنا نسبتاً آسان سمجھا جاتا ہے۔












بدھ 27 مئی 2026 