بورڈ آف پیس کا غزہ فنڈ خالی، عالمی منصوبے پر سوالات

Calender Icon جمعرات 28 مئی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے قائم کیے گئے “بورڈ آف پیس” (Board of Peace) کے تحت غزہ (Gaza Strip) کی تعمیرِ نو کے لیے بنائے گئے خصوصی فنڈ میں تاحال کوئی رقم جمع نہیں ہو سکی، حالانکہ مختلف ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کی مالی معاونت کے وعدے کیے جا چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس منصوبے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ اس فنڈ میں ابھی تک ایک بھی ڈپازٹ موصول نہیں ہوا، اور فنڈ اس وقت مکمل طور پر خالی ہے۔ یہ فنڈ عالمی بینک (World Bank) کے زیر انتظام اور اقوام متحدہ (United Nations) کی توثیق سے چلایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فنڈ میں رقم اس لیے منتقل نہیں کی گئی کیونکہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر غزہ (Gaza Strip) کی تعمیرِ نو اور ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جبکہ زمینی صورتحال ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچی۔

رپورٹس کے مطابق غزہ (Gaza Strip) میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل (Israel) کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں، اور اس دوران سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ علاقے کا بڑا حصہ اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے جبکہ بڑی آبادی ساحلی علاقوں میں محدود ہو چکی ہے۔

مزیدپڑھیں:بنگلادیشی حکومت نے عین وقت پر مداخلت کرکے ’ڈونلڈ ٹرمپ’ نامی بھینسےکی قربانی رکوادی

مزید بتایا گیا ہے کہ اس بورڈ میں کئی ممالک کو شامل کیا گیا تھا، جن میں بعض امریکی اتحادی اور چند دیگر ممالک بھی شامل ہیں، تاہم فرانس (France) اور برطانیہ (United Kingdom) نے اس میں شمولیت سے انکار کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ بورڈ مکمل طور پر امریکی قیادت میں ہے اور اس کے سربراہ خود ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) ہیں، جنہیں فیصلہ سازی میں حتمی اختیار حاصل ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکہ کی جانب سے 10 ارب ڈالر جبکہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کم از کم ایک ایک ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق غزہ (Gaza Strip) کی تعمیرِ نو کے لیے آئندہ دہائی میں 71 ارب ڈالر سے زائد کی ضرورت ہوگی، جبکہ خطے میں انسانی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔