نوجوان خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا تشویشناک اضافہ، سنگین وجہ کیا؟؟

Calender Icon جمعرات 28 مئی 2026

برطانیہ ، ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر رسیدہ خواتین(older womens) کے مقابلے میں نوجوان خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے پھیلاؤ کی شرح دگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

برطانیہ کی معروف سماجی تنظیم ذیابیطس یوکے کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق محض 7 سال کے عرصے میں 40 سال سے کم عمر خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص میں 47 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس، سال 18-2017 سے 24-2023 کے اسی عرصے کے دوران 40 سے 79 سال کی عمر کی خواتین میں اس مرض کی تشخیص میں 22 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
زچگی کے بعد دیکھ بھال کا فقدان اصل وجہ؟

ایک چیریٹی تنظیم نے ان اعداد و شمار کو خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی بڑی وجہ دورانِ حمل ذیابیطس کا شکار ہونے والی خواتین کو زچگی کے بعد برائے نام یا بالکل بھی طبی دیکھ بھال نہ ملنا ہو سکتی ہے۔

ذیابیطس یوکے کی چیف ایگزیکٹو، کولیٹ مارشل نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ہمارے لیے آنکھیں کھولنے والے ہونے چاہئیں۔ ہر تشخیص زندگی بدل کر رکھ دیتی ہے، لیکن جب ٹائپ 2 ذیابیطس کم عمر لوگوں میں پیدا ہو، تو یہ اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

دورانِ حمل ذیابیطس اس وقت ہوتی ہے جب خواتین کا جسم حمل کے دوران کافی مقدار میں انسولین پیدا نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
سائنسدانوں نے ذیابیطس کے علاج میں بڑی کامیابی حاصل کرلی

یہ لگ بھگ 10 سے 20 فیصد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے، جو حمل کے کسی بھی مرحلے پر ہو سکتی ہے، لیکن دوسری یا تیسری سہ ماہی میں زیادہ عام ہے۔

عام طور پر یہ حالت بچے کی پیدائش کے بعد ختم ہو جاتی ہے، لیکن جن خواتین کو یہ شکایت ہو، ان میں مستقبل میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا امکان بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

مزید پرھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز میجر سرجری کے بعد اسپتال سے گھر منتقل

رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں افراد ذیابیطس کی تشخیص کے ساتھ جی رہے ہیں، جبکہ تنظیم کا اندازہ ہے کہ مزید کروڑوں ایسے ہیں جو ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار تو ہیں لیکن ان کی اب تک تشخیص نہیں ہو سکی۔