کینیڈا(Canada) کے شہر نیومارکیٹ میں ایک 60 سالہ شخص کینیتھ لا(Kenneth Law) نے عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات میں سے 14 افراد کی خودکشی میں معاونت کا جرم قبول کر لیا ہے، جس کے بعد اس کے خلاف قتل کے مقدمے کی ممکنہ کارروائی ختم ہونے کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔
اونٹاریو سپیریئر کورٹ آف جسٹس میں پیشی کے دوران کینیتھ لا نے غیر جذباتی انداز میں 14 افراد کی خودکشی میں معاونت کا اعتراف کیا، جن کی عمریں 16 سے 36 سال کے درمیان تھیں۔ عدالت نے بتایا کہ سزا کا اعلان ستمبر میں کیا جائے گا۔
پراسیکیوٹرز کے مطابق ملزم پر برطانیہ کے 79 افراد کی اموات سے بھی تعلق کا الزام ہے، جو عدالت میں پیش کیے گئے ایک مفصل بیانِ حقائق کا حصہ ہے۔ تاہم استغاثہ نے کہا ہے کہ ایک حالیہ اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد قتل کے الزامات برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، اس لیے 14 فرسٹ ڈگری مرڈر کے الزامات سزا کے بعد واپس لے لیے جائیں گے۔
عدالتی کارروائی کے دوران متاثرہ خاندانوں کے افراد موجود تھے، جو اپنے پیاروں کی اموات کی تفصیلات سن کر شدید رنجیدہ ہو گئے۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق کینیتھ لا نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے متعدد کمپنیاں چلائیں، جن کے ذریعے وہ سوڈیم نائٹریٹ سمیت ایسے کیمیکلز اور دیگر اشیاء فروخت کرتا تھا جو خودکشی کے لیے استعمال ہو سکتی تھیں۔
سوڈیم نائٹریٹ ایک ایسا کیمیکل ہے جو کم مقدار میں کھانے کی اشیاء کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم زیادہ مقدار میں یہ انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:لاہور میں بارش اور ژالہ باری، گرمی کا زور ٹوٹ گیا
رپورٹ کے مطابق ملزم نے جنوری 2021 سے اپریل 2023 کے دوران 41 ممالک میں 1200 سے زائد پارسل بھیجے، جن میں برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا شامل ہیں۔
عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا کہ متاثرین میں سے کچھ افراد اپنے گھروں میں اہل خانہ کے سامنے دم توڑ گئے، کچھ ہوٹل کے کمروں یا گاڑیوں میں مردہ پائے گئے، جبکہ کئی افراد کو ان کے رشتہ داروں نے بے ہوش حالت میں دریافت کیا۔
مالی ریکارڈ کے مطابق اس عرصے میں ملزم کے اکاؤنٹس میں تقریباً 2 لاکھ 96 ہزار کینیڈین ڈالر جمع ہوئے، جو آن لائن ادائیگی پلیٹ فارمز کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
یہ کیس عالمی سطح پر اس لیے بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کہ اس کا دائرہ کئی ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ برطانیہ، آئرلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا ان مصنوعات کا ان اموات سے براہِ راست تعلق ہے یا نہیں۔












ہفتہ 30 مئی 2026 