بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی ناکام، خطے میں نئی سفارتی صف بندی

Calender Icon ہفتہ 30 مئی 2026

عرب خبررساں ادارے کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی(Narendra Modi) کی جانب سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی دہائی پر محیط کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2016 میں بھارتی قیادت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی پالیسی اپنائی تھی، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں پاکستان عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف دباؤ کا مؤثر جواب دیا بلکہ واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض جیسے اہم دارالحکومتوں کے ساتھ اپنے روابط کو مضبوط بنایا۔

الجزیرہ کے مطابق 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران بیانیے کی سطح پر بھی مقابلہ ہوا، جس میں پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی ملی، کیونکہ عالمی برادری نے بغیر ٹھوس شواہد کے الزامات کو تسلیم کرنے میں احتیاط برتی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے دوران واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بعض سفارتی اختلافات سامنے آئے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے متعدد مرتبہ اپنا کردار ظاہر کیا، جبکہ بھارت نے ان دعوؤں سے اختلاف کیا۔ اسی دوران امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے فوجی قیادت کے کردار کو سراہنے کے بیانات بھی سامنے آئے۔

مزیدپڑھیں:وسیم اکرم کا حج سے متعلق قیاس آرائیوں پر بیان سامنے آگیا

رپورٹ میں خطے کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوئی ہے، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری کو علاقائی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح پاکستان اور خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ دفاعی و معاشی تعاون میں اضافہ ہوا ہے، جس نے خطے میں نئی سفارتی صف بندیوں کو جنم دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت ایک متوازن ماڈل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس میں مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں برقرار رکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی اندرونی پالیسیوں اور مذہبی کشیدگی سے متعلق عالمی خدشات نے بھی اس کی بین الاقوامی ساکھ پر اثر ڈالا ہے، جبکہ پاکستان نے سرمایہ کاری کے مواقع، معدنی وسائل اور فعال سفارت کاری کے ذریعے اپنی پوزیشن کو بہتر بنایا ہے۔

ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت مختلف اور بعض اوقات متضاد عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو اس کی سفارتی کامیابی کا اہم پہلو سمجھا جا رہا ہے۔