مانسہرہ چلاس موٹروے کو چین سے منسلک کرنے کا فیصلہ

Calender Icon منگل 2 جون 2026

مانسہرہ چلاس مجوزہ موٹروے منصوبے کو براہِ راست چین سے منسلک کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جسے خطے میں ٹرانسپورٹ اور تجارت کے بڑے نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ مواصلات Abdul Aleem Khan کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (National Highway Authority) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں منصوبے کی پیش رفت اور مختلف تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ یہ نئی موٹروے مانسہرہ، کاغان، ناران، جھالکھنڈ اور چلاس کو آپس میں جوڑے گی اور مستقبل میں اسے براہ راست چین سے منسلک کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں مانسہرہ سے بابوسر ٹاپ تک موٹروے تعمیر کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں اسے چلاس تک توسیع دی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ راستہ شاہراہِ قراقرم کا ایک جدید اور محفوظ متبادل ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے سے سفر کا دورانیہ تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا، جس کے باعث وقت اور ایندھن دونوں کی نمایاں بچت ممکن ہوگی۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ خطے میں رابطہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو نئی سمت دے گا۔

مزیدپڑھیں:پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کی تیاری‘ پاکستان میں 4 بڑے ڈیموں کی تعمیر تیز

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مجوزہ موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی، جبکہ اس میں 13.5 کلومیٹر طویل بابوسر ٹنل بھی شامل ہوگی جو پاکستان کی طویل ترین سرنگوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق یہ موٹروے نیٹ ورک مغربی چین کو کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے جوڑے گا، جس سے بحیرہ عرب تک ایک تیز، مختصر اور مؤثر زمینی راستہ دستیاب ہوگا۔ اس منصوبے کو گوادر پورٹ کی ترقی اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے ڈیزائن میں ابتدائی طور پر چار لین موٹروے شامل ہے، جسے مستقبل میں چھ لین تک بڑھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ہر 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ریسٹ ایریاز بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ مال بردار گاڑیوں کے لیے ٹرکنگ ٹرمینلز بھی شامل ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف شمالی علاقوں کی معیشت بدل سکتا ہے بلکہ پاکستان کو چین اور وسطی ایشیا کے ساتھ زمینی رابطے میں بھی مزید مضبوط کر سکتا ہے۔