پنجاب پولیس کے اندرونی احتسابی نظام اور ایک زیرِ التوا انکوائری پر ایک شہری تنویر ناڈلہ نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی درخواست پر کارروائی تو ہوئی لیکن حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
تنویر ناڈلہ، جو خود کو ڈیجیٹل اسکلز کے شعبے میں سرگرم سماجی کارکن اور ٹرینر بتاتے ہیں، نے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مئی 2025 میں ملتان پولیس کے بعض افسران ایس پی شمس خان ودیگر کے خلاف اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، چادر اور چار دیواری کی پامالی اور خواتین سے مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے درخواست دی تھی۔
ان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ شکایت ایس پی گلگشت سیف اللہ گجر اور بعد ازاں سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کو دی گئی، تاہم ان کے مطابق فوری طور پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ بعد ازاں معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوایا گیا، جس کے بعد یہ انکوائری پنجاب پولیس کی انٹرنل اکاؤنٹ ایبلٹی برانچ (IAB) کو منتقل ہوئی۔
شہری کا کہنا ہے کہ انکوائری کے دوران متعلقہ افسران، جن میں ایس پی شمس خان اور ڈی ایس پی بخت نصر سمیت دیگر اہلکار شامل تھے، کو طلب کر کے ان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ ان کے مطابق تقریباً چار ماہ تک جاری رہنے والی انکوائری کے بعد بعض افسران کے خلاف چارج شیٹ بھی جاری کی گئی۔
مزیدپڑھیں:سوریا کمار یادیو کی کپتانی پر سوالات اٹھ گئے
تاہم شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ان سفارشات پر کوئی حتمی کارروائی نہیں کی گئی اور معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔ ان کے مطابق انہیں بار بار یہی بتایا جاتا ہے کہ کیس “پینڈنگ” ہے یا اس کی کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو رہی۔
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ایس پی رینک یا اس سے اوپر کے افسران کے خلاف کارروائی کے لیے آئی جی پنجاب کی منظوری ضروری ہوتی ہے، جس کے باعث متعلقہ افسر کے خلاف فیصلہ بھی تاخیر کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسر اس وقت NCCIA ملتان میں تعینات ہیں۔
شہری نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ انٹرنل اکاؤنٹ ایبلٹی برانچ کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور تاخیر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ بار بار لاہور کے چکر لگا کر اپ ڈیٹس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم کوئی واضح جواب نہ ملنے پر انہیں یہ معاملہ عوامی سطح پر اٹھانا پڑا۔
دوسری جانب سرکاری سطح پر اس معاملے پر فوری طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔












جمعرات 4 جون 2026 