ریلوے پٹریوں پر سولر پینلز، توانائی کا نیا تجربہ

Calender Icon جمعہ 5 جون 2026

ریلوے پٹریوں کے درمیان موجود غیر استعمال شدہ جگہ کو شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ایک نیا اور منفرد تجربہ سامنے آیا ہے، جسے مستقبل میں سستی اور ماحول دوست بجلی کے حصول کا اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں Switzerland کے بٹس گاؤں کے قریب ایک فعال ریلوے لائن کے 100 میٹر حصے پر تجرباتی بنیادوں پر 48 سولر پینلز پٹریوں کے درمیان نصب کیے گئے ہیں، جن کے اوپر سے ٹرینیں باقاعدگی سے گزرتی ہیں۔ یہ منصوبہ سوئس اسٹارٹ اپ Sun-Ways نے تیار کیا ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق اس نظام کی 18 کلو واٹ صلاحیت سالانہ تقریباً 16 ہزار کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا کر سکتی ہے، جو چند گھروں کی سالانہ توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

یہ منصوبہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ یہ زرعی زمین، جنگلات یا پہاڑی علاقوں کو استعمال کیے بغیر توانائی پیدا کرنے کا متبادل طریقہ فراہم کرتا ہے۔

مزیدپڑھیں:سوشل میڈیا دوستی محبت میں بدل گئی، امریکی خاتون کی پاکستانی نوجوان سے شادی

منصوبہ اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے اور اگر یہ مصروف ریلوے لائنوں پر بھی محفوظ اور مؤثر ثابت ہوا تو اسے بڑے پیمانے پر اپنایا جا سکتا ہے۔ اسی سلسلے میں کمپنی نے فرانسیسی ریلوے آپریٹر SNCF کے ساتھ بھی تعاون شروع کیا ہے تاکہ نتائج اور تکنیکی ڈیٹا کا جائزہ لیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ ماڈل کامیاب ہو جاتا ہے تو یورپ سمیت دیگر خطوں میں توانائی پیدا کرنے کے طریقوں میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔