ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات: سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے

Calender Icon ہفتہ 6 جون 2026

سندھ ہائیکورٹ (Sindh High Court) میں ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور پہاڑ کی کٹائی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 جون تک جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے حکومت سندھ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سہیل اقبال صدیقی مذکورہ پلاٹ کے قانونی مالک ہیں، جبکہ کے ایم سی نے 2 جون کو بغیر کسی پیشگی نوٹس اور قانونی اختیار کے پلاٹ کی باؤنڈری وال مسمار کی۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے جاری خط میں واضح کیا گیا ہے کہ متنازع پلاٹ ہل پارک کی حدود میں شامل نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر پی ای سی ایچ ایس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور اس اراضی کا مکمل ریکارڈ بھی سوسائٹی کے پاس موجود ہے۔

مزید پڑھیں؛کراچی: بی آر ٹی یلو لائن میں مبینہ 6 ارب روپے کی بے قاعدگی، انکوائری شروع

درخواست گزار کے مطابق کے ایم سی نے 21 اپریل کو مذکورہ پلاٹ پر باؤنڈری وال کی تعمیر کے لیے این او سی بھی جاری کیا تھا، اس لیے بعد ازاں اسے مسمار کرنا غیر قانونی اور بلا اختیار اقدام ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ذمہ داران کے خلاف انکوائری اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیا جائے اور متعلقہ حکام کو مزید مداخلت سے روکا جائے۔

اس کیس میں سندھ حکومت، کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ، میونسپل کمشنر، ڈپٹی ڈائریکٹر ہل پارک اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔