مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا ہے، جبکہ خطے میں اسرائیل کی لبنان پر بمباری بھی جاری ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کی جانب سے کویت اور بحرین کی سمت سات بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے زیادہ تر کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روک لیا گیا۔ اسی دوران آبنائے ہرمز کی جانب بھی چار ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق کچھ میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ اس کے علاوہ امریکی افواج نے ایران کے گوروک اور قشم جزیرے پر واقع ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
مزید پڑھیں؛امریکا ایران میں ہتھیاروں کا کئی سال کا ذخیرہ استعمال کرچکا، فنانشل ٹائمز
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق انہوں نے خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اور بعض آئل ٹینکرز کو بھی خبردار کیا جو ان کے مطابق بغیر اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات بھی اس کشیدگی کے باعث تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ایران پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں تک رسائی اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکہ خطے میں بحری راستوں کی سکیورٹی اور ایران کے جوہری پروگرام پر پیش رفت چاہتا ہے۔
اسی دوران اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں کشیدگی بھی برقرار ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی حملے کے دوران لبنانی فوج کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی رپورٹ ہے۔
لبنانی فوج نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اہلکار ایک آپریشن کے دوران نشانہ بنے، تاہم اسرائیل کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں؛ایرانی قومی خودمختاری، و علاقائی سالمیت کا ہر صورت احترام کیا جائے: چین
لبنان کی جانب سے تاریخی طور پر اسرائیل-حزب اللہ تنازع میں براہ راست شمولیت سے گریز کیا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس دوران لبنان کے صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی صورت لبنان کو “سودے بازی کا حصہ” نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق لبنان ایک آزاد ملک ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔
دوسری جانب حزب اللہ کے رہنما نے بھی امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاہدے ان کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔
ماہرین کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بگڑتی ہوئی صورتحال پورے خطے کو ایک وسیع تر تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات کئی ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔












ہفتہ 6 جون 2026 