غیر ملکی خبر ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا(United States) ایران کے منجمد اثاثوں کو خلیجی اتحادی ممالک کو منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ ایران سے منسوب حملوں یا نقصانات کے ازالے کے لیے ان فنڈز کو استعمال کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ اقدام کا مقصد خلیجی ممالک کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے، جنہیں مبینہ طور پر ایران کی پالیسیوں یا سرگرمیوں کے باعث نقصان اٹھانا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے امریکی حکومت کے مختلف اداروں میں مشاورت جاری ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خزانہ نے متعلقہ حکام اور ماہرین پر مشتمل ٹیم کو ہدایت جاری کی ہے کہ خلیجی ممالک کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگایا جائے۔ اس جائزے کی بنیاد پر یہ تعین کیا جائے گا کہ متاثرہ ممالک کو کس حد تک مالی معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:طالبان رجیم نے جرمنی سے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے صاف انکار کردیا
ذرائع کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل قانونی، سفارتی اور مالیاتی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ اس معاملے کے بین الاقوامی سطح پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تاہم امریکا یا متعلقہ خلیجی ممالک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران کی جانب سے بھی رپورٹ پر فوری ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس سے خطے کی سیاسی اور سفارتی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایران و امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔












اتوار 7 جون 2026 