امریکی شہری کے بچوں کی شہریت کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچ گیا

Calender Icon اتوار 7 جون 2026

لاہور میں ایک غیر معمولی اور توجہ طلب معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک امریکی شہری، جو اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستان منتقل ہوا، نے اپنے لاہور میں پیدا ہونے والے بچوں کو پاکستانی شہریت نہ ملنے اور اس میں غیر معمولی تاخیر کے خلاف لاہور ہائی کورٹ (LHC) سے رجوع کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی شہری الیکس میسن ہل نے امریکہ میں ایک پاکستانی عالم دین کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور 2021 میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے عبدالقادر ثانی گیلانی رکھ لیا۔

خاندان کے مطابق ان کے چار بچے ہیں جن میں سے دو بچے عاصق احمد گیلانی (عمر 4 سال) اور علی نور گیلانی (عمر 2 سال) لاہور میں پیدا ہوئے۔ یہ خاندان پاکستان میں قانونی ویزوں پر مقیم ہے اور مستقل طور پر یہیں رہائش اختیار کر چکا ہے۔

امریکی خاندان نے بعد ازاں فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے پاکستان شہریت ایکٹ کی دفعہ 4 کے تحت شہریت حاصل کریں گے، جس کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے افراد کو مخصوص شرائط کے تحت پیدائشی بنیاد پر شہریت دی جا سکتی ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے متعلقہ حکام کے پاس مئی 2025 میں باقاعدہ درخواستیں جمع کرائیں، تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود کسی قسم کا فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔

کسی پیش رفت نہ ہونے پر خاندان نے قانونی نوٹسز بھجوانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد 6 اکتوبر 2025 کو پنجاب کے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا تھا کہ وہ چھ ہفتوں کے اندر قانون کے مطابق اس معاملے کا فیصلہ کریں۔

مزیدپڑھیں:امریکا ایران کے منجمد اثاثے خلیجی اتحادیوں کو دے گا، خبر ایجنسی

تاہم درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود معاملہ حل نہیں ہو سکا کیونکہ محکمہ داخلہ نے کیس وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کیا، جس نے بعد میں اسے واپس پنجاب حکومت کو بھیج دیا۔ اس کے بعد کیس کو ضلعی انتظامیہ لاہور کے حوالے کر دیا گیا، جس سے مزید تاخیر پیدا ہوئی۔

ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حتمی فیصلہ نہ ہونے پر بچوں کے والد نے لاہور ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور متعلقہ ادارے مسلسل تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ذمہ دار حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پنجاب کے سیکریٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل عمر اعجاز گیلانی نے اس معاملے پر مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خاندان پاکستان میں رضاکارانہ طور پر آباد ہوا ہے اور ان کے بچوں کی شہریت کا مسئلہ ملک کے مثبت تشخص کے لیے بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا میں پاکستان کے حوالے سے منفی تاثر پھیلایا جاتا ہے، یہ واقعہ ایک مثبت مثال ہے، تاہم بیوروکریسی کی تاخیر اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

وکیل نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ ہو سکے اور ایک مثبت انسانی و سماجی مثال قائم کی جا سکے۔