اوکاڑہ ساہیوال ’جنگ‘ میں ثالثی کے لیے ’مولانا فضل الرحمان کی انٹری‘

Calender Icon اتوار 7 جون 2026

سوشل میڈیا پر اوکاڑہ(Okara) اور ساہیوال کے درمیان شروع ہونے والی دلچسپ ’میم وار‘ کے اثرات اب دیگر شہروں تک بھی پھیلنے لگے ہیں، جہاں چیچا وطنی، ڈی آئی خان، خانیوال اور پاکپتن کے صارفین بھی اس مزاحیہ مقابلے میں شامل ہو چکے ہیں۔

چند روز قبل شروع ہونے والا یہ میم ٹرینڈ تاحال سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے اور صارفین اپنے اپنے شہروں کی حمایت میں دلچسپ، طنزیہ اور مزاحیہ پوسٹس شیئر کر رہے ہیں، جس کے باعث یہ ٹرینڈ مزید مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ بحث ایک ہلکے پھلکے تفریحی ماحول میں تبدیل ہو چکی ہے، جس میں صارفین تخلیقی میمز کے ذریعے اپنی علاقائی شناخت کا اظہار کر رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کی صورتحال پر ناخوش، اہم اجلاس طلب کرلیا
اس ٹرینڈ نے مختلف شہروں کے صارفین کو ایک نئے انداز میں آن لائن انٹرایکشن کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔


ٹم نامی صارف نے ایک مزاحیہ ویڈیو شیئر کرتے ہو لکھا کہ’خانیوال اور پاکپتن ساہیوال اور اوکاڑہ کی تاریخی جنگ میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘


حسن نے ایک نقشہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ ہے اوکاڑا ساہیوال کی جاری جنگ کا نقشہ۔‘


امجد نے ایک شخص کی منہ سے ہُٹر بجانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ساہیوا میں ایمرجنسی سائرن بج رہے ہیں۔‘


سنگت نامی اکاؤنٹ نے ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’شکارپور سے تعلق رکھنے والے سندھی سولجرز ساہیوال پہنچ گئے ہیں تاکہ اوکاڑہ کے خلاف دفاع میں حصہ لے سکیں۔‘


رباب شاہ نے وائرل ٹرینڈ سے بے خبر ہونے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ’یار اوکاڑہ اور ساہیوال کے درمیان جنگ چل رہی ہے اور میں اوکاڑہ میں رہتی ہوں لیکن مجھے اس بارے میں کچھ بھی پتا نہیں ہے۔‘


سید مغیز حسین نے لکھا کہ ’ساہیوال بمقابلہ اوکاڑہ جنگ کی اپڈیٹس کیسے تلاش کی جائیں؟ الجزیرہ یا ڈان کی ویب سائٹ پر اس بارے میں کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔‘


ایک صارف نے لکھا کہ ’اوکاڑہ اور ساہیوال کی جنگ کے خاتمے کے لیے ڈی آئی خان مولانا فضل الرحمان کو بھیج رہا ہے۔‘