فرنچ فرائز کے شوقین ہوجائیں خبردار، نئی تحقیق میں ذیابیطس سے تعلق کا انکشاف سامنے آگیا

Calender Icon پیر 8 جون 2026

فرنچ فرائز(French fries) دنیا بھر میں پسند کی جانے والی غذا سمجھی جاتی ہے، تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس مقبول اسنیک کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

محققین کے مطابق ہفتے میں صرف تین بار فرنچ فرائز کھانے کی عادت ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ آلو کو دیگر طریقوں سے پکاکر کھانے والوں میں ایسا رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ خود آلو نہیں بلکہ اسے تیار کرنے کا طریقہ ہے۔ تحقیق کے مطابق جب آلو کو گہرے تیل میں تل کر فرنچ فرائز بنایا جاتا ہے تو اس کے صحت پر منفی اثرات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ اُبلے ہوئے، بیک کیے گئے یا مسلے ہوئے آلو نسبتاً محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔

چار دہائیوں پر محیط تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق میں 1984 سے 2021 تک دو لاکھ پانچ ہزار سے زائد افراد کے غذائی معمولات اور صحت کا جائزہ لیا گیا۔ اس طویل تحقیق کے دوران 22 ہزار 299 افراد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہفتے میں فرنچ فرائز کی تین سرونگز استعمال کرنے والے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس اتنی ہی مقدار میں اُبلے، بیک کیے گئے یا مسلے ہوئے آلو کھانے والوں میں خطرے میں کوئی نمایاں اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

صرف آلو نہیں، متبادل غذا بھی اہم

محققین نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اگر آلو کی جگہ دوسری غذائیں استعمال کی جائیں تو نتائج کیا ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق آلو کے بجائے مکمل اناج کو خوراک کا حصہ بنانے سے ذیابیطس کے خطرے میں کمی دیکھی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق ہفتے میں تین مرتبہ آلو کے بجائے مکمل اناج کھانے والوں میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد کم پایا گیا۔ جبکہ اگر فرنچ فرائز کی جگہ مکمل اناج استعمال کیا جائے تو یہ کمی 19 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستان میں بچت 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کا انکشاف

اس کے برعکس آلو کے متبادل کے طور پر سفید چاول کا استعمال زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ تحقیق میں سفید چاول کو آلو کے مقابلے میں ذیابیطس کے نسبتاً زیادہ خطرے سے جوڑا گیا۔

کیا آلو واقعی نقصان دہ ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ آلو بذاتِ خود کئی اہم غذائی اجزا کا خزانہ ہیں۔ ان میں فائبر، وٹامن سی اور میگنیشیم جیسی مفید غذائیت پائی جاتی ہے۔ تاہم ان میں نشاستے کی مقدار زیادہ ہونے اور گلیسیمک انڈیکس بلند ہونے کی وجہ سے یہ خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔

تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے مطابق آلو کے صحت پر اثرات کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوتا ہے کہ انہیں کس انداز میں تیار کیا گیا ہے اور ان کی جگہ خوراک میں کون سی دوسری چیز استعمال کی جا رہی ہے۔

تحقیق کی حدود اور ماہرین کی رائے

محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے اس سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ فرنچ فرائز براہِ راست ذیابیطس کا باعث بنتے ہیں۔ ممکن ہے دیگر طرزِ زندگی یا غذائی عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہوئے ہوں۔

اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ تحقیق سے یہ بات ضرور سامنے آتی ہے کہ فرنچ فرائز کا زیادہ استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مکمل اناج پر مشتمل متوازن غذا ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

آلو کو خوراک سے نکالنا ضروری نہیں

تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے اداریے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آلو کی تمام اقسام کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق بیک کیے گئے، اُبلے ہوئے اور مسلے ہوئے آلو اپنی غذائی افادیت اور نسبتاً کم ماحولیاتی اثرات کے باعث صحت مند غذا کا حصہ بن سکتے ہیں۔

البتہ ذیابیطس سے بچاؤ اور بہتر صحت کے لیے ماہرین اب بھی مکمل اناج کو ترجیحی انتخاب قرار دیتے ہیں اور مزید تحقیقات کے ذریعے مختلف آبادیوں میں ان نتائج کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔