اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس (Nasir Abbas)نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل شفاف نہیں تھا اور نتائج میں مبینہ دھاندلی کے الزامات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر اور بعض مخصوص نتائج کی تشہیر نے انتخابی عمل کی شفافیت پر شکوک و شبہات پیدا کیے۔ ان کے بقول گلگت بلتستان میں اطلاعات کے بلیک آؤٹ کے ذریعے حقائق کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی، جبکہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرتے ہوئے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دیا گیا۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو دیگر جماعتوں کے مقابلے میں یکساں انتخابی مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی مداخلت اور بعض حلقوں میں اثر و رسوخ کے استعمال نے انتخابی ماحول کو متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں عوام پہلے ہی مختلف محرومیوں کا شکار ہیں، جبکہ وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق منتخب حکومتوں کو کمزور کرنا اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کی روایت اب بھی برقرار ہے، جس کے باعث حقیقی عوامی نمائندوں کو آگے آنے کے مواقع نہیں مل رہے۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہا کہ معاشی بدحالی اور سیاسی بحران کے ذمہ دار عناصر کو دوبارہ اقتدار میں لایا جا رہا ہے، جس سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق انتخابات کے نتائج پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں اور صرف سچائی، انصاف اور عوامی رائے کے احترام کے ذریعے ہی جمہوری نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے سے ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔ ان کے بقول حقیقی سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جس سے غیر سیاسی عناصر کو ابھرنے کا موقع ملتا ہے۔
راجہ ناصر عباس نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی عوامی نمائندوں کو مؤثر کردار ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کرنے والے شہریوں کو دہشت گرد یا غدار قرار دینا ایک خطرناک طرزِ عمل ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
مزید پڑھیں؛جے یو آئی (ف) کاگلگت بلتستان انتخابات کے نتائج پر تحفظات کا اظہار
انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کیے گئے وعدوں پر اکثر عمل درآمد نہیں ہوتا، جس سے اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق انفارمیشن بلیک آؤٹ افواہوں اور قیاس آرائیوں کو جنم دیتا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی بندش عوام کو مستند معلومات تک رسائی سے محروم کر دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب عوام حکومتی بیانیے پر اعتماد کھو بیٹھیں تو یہ کسی بھی نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر جیسے حساس خطے میں غلط فیصلوں کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم نہ کی جائیں تو مخالف بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ موجودہ ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، جنہیں کم کرنے کے لیے شفافیت، سیاسی رواداری اور عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔












پیر 8 جون 2026 