مدینہ منورہ (Medina) میں حج 2026 کے انتظامات کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل حج نے جدید ٹیکنالوجی، سمارٹ مینجمنٹ اور بہتر مالی حکمت عملی پر مبنی اہم اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔
حکام کے مطابق پہلی بار ایک ڈیجیٹل انڈکشن سسٹم نافذ کیا گیا ہے جس کے ذریعے حجاج کرام کے لیے کمروں کی الاٹمنٹ کا عمل جو پہلے گھنٹوں میں مکمل ہوتا تھا، اب چند سیکنڈز میں انجام پا رہا ہے۔
اس نظام کے تحت مدینہ منورہ کے مرکزی علاقے (مرکزیہ) میں ایک لاکھ سے زائد حجاج کے لیے رہائش کو وزارتِ مذہبی امور کے مقررہ نرخوں کے مطابق یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ معیاری اور سستی رہائش فراہم کی جا سکے۔
ڈائریکٹوریٹ کے مطابق انسانی وسائل کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لائی گئی ہے، جبکہ کیٹرنگ سروسز کو مکمل طور پر کارکردگی کی بنیاد پر مختص کیا گیا ہے تاکہ کھانے کے معیار اور شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ زاہد سہیل نے بتایا کہ حج آپریشن کے پہلے مرحلے میں ہزاروں حجاج کی رہائش اور بعد از حج مرحلے کے انتظامات کے لیے جامع لاجسٹک پلان فعال کیا گیا ہے، جس میں رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور سٹی چیک ان جیسی سہولیات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں؛بدعنوانی پر زیرو ٹالرنس، خدام الحجاج کی تربیت مکمل، سخت ہدایات جاری
انہوں نے کہا کہ ایک پاکستانی طالب علم کے تیار کردہ کمپیوٹرائزڈ روم الاٹمنٹ سافٹ ویئر کی بدولت اب حجاج بسوں سے اترتے ہی براہِ راست اپنے کمروں میں منتقل ہو جاتے ہیں، جس سے وقت اور انتظامی پیچیدگیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
پاکستان حج مشن نے مسجد نبوی ﷺ کے قریب مرکزیہ علاقے میں بڑی تعداد میں بیڈز وزارت کے مقررہ نرخوں پر حاصل کیے ہیں، جسے انتظامی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نسک کارڈ سسٹم کے ذریعے شکایات کے فوری ازالے اور فیلڈ کلینکس کے ذریعے 24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حجاج کے لیے سہولیات میں بہتری اور جدید نظام کا نفاذ ایک قابلِ تحسین پیش رفت ہے، جس سے انتظامی شفافیت اور سہولت دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔












پیر 8 جون 2026 