محکمہ موسمیات نے مون سون سیزن 2026 کے لیے موسمیاتی پیش گوئی(Weather Forecast) کرتے ہوئے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں، درجہ حرارت اور ممکنہ موسمی خطرات سے متعلق اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال مون سون سیزن کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
پیش گوئی کے مطابق جولائی سے ستمبر تک ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر شمالی پنجاب اور مغربی گلگت بلتستان میں گرمی کی شدت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیے جانے کی توقع ہے، جس سے ہیٹ ویو اور ہیٹ اسٹریس کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران بعض مقامات پر شدید بارشوں کے نتیجے میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔ نکاسی آب کے ناقص نظام والے علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں:بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑھا دیا
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت انسانی صحت، زراعت اور آبی وسائل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں معمول سے کم بارشوں کے باعث پانی کی قلت کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں، جس سے زرعی سرگرمیوں اور پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ بلند درجہ حرارت کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اچانک سیلاب اور نشیبی علاقوں میں تباہی کا خطرہ موجود ہے۔
ماہرین نے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات، مؤثر آبی انتظام اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری مکمل رکھنے کی سفارش کی ہے تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔












منگل 9 جون 2026 