مومنہ اقبال کیس، وکلاء کومیڈیا ٹاک سے روک دیا گیا، پنجاب بار

Calender Icon بدھ 10 جون 2026

پنجاب بارکونسل میں لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق اور مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران پنجاب بار(punjab bar councile)کی ڈسپلنری کمیٹی نے رمشا اقبال اور ثاقب چدھڑ کے وکلا کو کیس سے متعلق میڈیا پر بات کرنے سے روک دیا۔

چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی عباس علی چدھڑ کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی نے سماعت کی۔ دوران سماعت ایم پی اے ثاقب چدھڑ اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوئے۔ کمیٹی کے روبرو لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ نے کمیٹی سے استدعا کی کہ میاں علی اشفاق میرے وکیل ہیں انہوں نے میری ایما پرمیڈیاٹاک پرسب کچھ بولا۔ تمام باتوں کا میرے پاس ثبوت موجود ہے۔

وکیل میاں علی اشفاق نے بتایا میں نے اپنے کلائنٹ کا مؤقف میڈیا پربیان کیا ہے، ثاقب چدھڑ ممبر پنجاب اسمبلی ہے مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پر سٹوری لگائی جس کے بعد این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرائی۔ 21 مئی کو این سی سی آئی اے میں انکوائری میں شامل ہوئے۔ رمشا اور مومنہ نے میڈیا سے ٹاک کی جس کےبعد ہم نے میڈیا سے گفتگو کی تمام باتوں کا ثبوت اورشواہد موجود ہیں۔

رمشا اقبال نے دلائل دیتے ہوئےکہا میں مومنہ کی بہن ہوں اس وجہ سے ان کے ساتھ کھڑی ہوں میرے اوپرجو الزامات عائد کیے سب بے بنیاد ہیں۔

مزید پڑھیں:11تا 15 جون، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان، سیلابی صورتحال کا خدشہ، این ڈی ایم اے

چیئرمین ڈسپلنری کمیٹی غلام عباس چدھڑ نے ریمارکس دیئےکہ دووکلا نے پارٹیوں کے مسئلے کو اپنی انا کا مسلہ بنالیا۔ کمیٹی کے سربراہ غلام عباس چڈھر نے کہا کہ کیس سے جڑا کوئی بھی وکیل کیس کے متعلق میڈیا سے بات نہیں کرے گا۔پنجاب بارکونسل نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔