سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے روبرو سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیوں(Construction Companies) سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں فنانس بل پر حتمی سفارشات کا عمل جاری ہے۔
کمیٹی ممبر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیاں 20، 25 سال فائنل ٹیکس رجیم میں تھیں، اب آپ کہتے ہیں اس پر آئی ایم ایف والے نہیں مان رہے۔مفتاح اسماعیل نے آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ آپ بےشک 400 ارب کی بجائے 450 ارب روپے اکٹھا کریں، کنسٹرکشن کمپنیوں سے ایک ہی بار فائنل ٹیکس لیا جائے۔ہمارے ودہولڈنگ ایجنٹس آکر ٹیکس لیں گے، آپ بےشک ایک ڈیڑھ فیصد مزید ٹیکس بڑھا دیں لیکن وہ فائنل ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ آپ کنسٹرکشن کمپنیوں پر 8 فیصد ٹیکس بڑھا کر بے شک 8 اعشاریہ5 فیصد کردیں، 15، 20 ہزار چھوٹی کنسٹرکشن کمپنیوں کے لیے تھوڑی آسانی کر دیں۔
سینیٹ کمیٹی کے ممبر نے کہا کہ کنسٹرکشن کمپنیاں تعمیراتی سامان پر پہلے ہی ٹیکس دے رہی ہیں، اس طرح تو کمپنیوں پر 4، 5 بار ٹیکس بن جاتاہے۔
مزید پڑھیں:گلگت بلتستان میں حکومت سازی، پیپلز پارٹی کے تحریکِ انصاف، ایم ڈبلیو ایم سے رابطے
دوران کمیٹی رکن سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ودہولڈنگ ٹیکس کے بہانے ایف بی آر عملہ چمڑی نکالتا ہے، ہم چاہتے ہیں 4 سو کی بجائے سوا 4 سو ارب اکٹھا کریں، لوگوں کو ہراساں کرنے سے بچائیں اور کمپنیوں کو کام کرنےدیں۔












بدھ 17 جون 2026 