پاکستان کے 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار، خطرناک مشقت، رپورٹ میں انکشاف

Calender Icon جمعرات 18 جون 2026

نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور یونیسیف کے اشتراک سے جاری اہم قومی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر(Chield Labour) کا شکار ہیں، جن میں سے 66 لاکھ سے زائد بچے خطرناک مشقت میں مصروف ہیں، جو ان کی صحت، تحفظ اور مستقبل کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے۔

این سی ایچ آر اور یونیسیف کی ‘پاکستان: چائلڈ لیبر سرویز، شواہد برائے عمل’ کے عنوان سے جاری رپورٹ تقریباً تین دہائیوں بعد بچوں سے مشقت کے حوالے سے پہلا قومی سطح کا نمائندہ ڈیٹا سیٹ ہے، جو ملک بھر میں چائلڈ لیبر کے حجم، پھیلاؤ، مختلف شعبوں، خطرات اور اس کے بنیادی اسباب کی جامع تصویر پیش کرتی ہے۔

رپورٹ کے اجرا کے موقع پر این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے کہا کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے حوالے سے آخری جامع سروے 1996 میں کیا گیا تھا، جس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پالیسی ساز اور ترقیاتی شراکت دار پرانے یا غیرمکمل اعداد و شمار پر انحصار کرتے رہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ مختلف صوبوں میں چائلڈ لیبر کی شرح مختلف ہے، تاہم خطرناک بچوں کی مزدوری ایک وسیع اور تشویش ناک مسئلہ ہے جو ملک کے ہر خطے میں بچوں کو متاثر کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر کا سب سے زیادہ بوجھ پنجاب پر ہے جہاں 60 لاکھ بچے محنت و مشقت میں مصروف ہیں، اس کے بعد سندھ میں 16 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار 155، بلوچستان میں 2 لاکھ 1 ہزار 352 بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 15 ہزار 180 بچے محنت مزدوری کرتے ہوئے ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں غربت کو چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا سبب قرار دیا گیا ہے جبکہ اس کی شرح سب سے زیادہ غریب گھرانوں اور کم تعلیم یافتہ والدین کے بچوں میں دیکھی گئی، لڑکے لڑکیوں کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ تعداد میں محنت و مشقت، خصوصاً خطرناک کاموں میں مصروف ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بچوں سے کروائی جانے والی مزدوری کا ایک بڑا حصہ خاندانی ماحول کے اندر انجام پاتا ہے، جیسے خاندانی کھیتوں، خاندانی ورکشاپس اور گھروں میں کام کرنا یہی وجہ ہے کہ چائلڈ لیبر کی یہ شکل روایتی لیبر انسپیکشن اور نگرانی کے نظام سے بڑی حد تک اوجھل رہتی ہے۔

رپورٹ کے نتائج بچوں کی فلاح و بہبود پر چائلڈ لیبر کے سنگین اثرات کو بھی اجاگر کرتے ہیں، محنت و مشقت میں مصروف بچے زیادہ تر تعلیم سے محروم رہتے ہیں، طویل اوقات تک کام کرتے ہیں اور چوٹوں، بیماریوں، تھکن اور ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ شکار ہوتے ہیں، مختلف صوبوں میں 32 سے 58 فیصد کام کرنے والے بچوں نے کام کے دوران پیش آنے والی چوٹ یا بیماری کی اطلاع دی جبکہ محنت و مشقت میں مصروف بڑی عمر کے بچوں میں سے ایک تہائی تک نے ڈپریشن جیسی علامات ظاہر کیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چائلڈ لیبر کا مسئلہ کسی ایک وزارت یا کسی ایک انفرادی اقدام سے حل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ شواہد مسلسل اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

انہوں نے قومی ترجیحات پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بجٹ، قانون سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سب سے بڑھ کر ہر سطح پر مستقل سیاسی عزم اور اجتماعی ارادے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شواہد مسلسل اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کا مسئلہ عام تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہے، ہم نے اپنے آئین، بین الاقوامی معاہدوں اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت اہم وعدے کر رکھے ہیں، ان وعدوں کی تکمیل کوئی اختیاری امر نہیں، اس کے لیے مؤثر بجٹ، قانون سازی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سب سے بڑھ کر ہر سطح پر مستقل سیاسی عزم اور اجتماعی عہد کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:فاطمہ ثنا دی ہنڈریڈ لیگ کیلئے منتخب، پہلی پاکستانی خاتون کرکٹر بن گئیں

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جج جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پاکستان نے چائلڈ لیبر کے حوالے سے واضح قانونی ذمہ داریاں قبول کر رکھی ہی اور انہوں نے آئین کے آرٹیکل 11 کا حوالہ دیا جو 14 سال سے کم عمر بچوں کو خطرناک پیشوں میں ملازمت دینے سے روکتا ہے اور آرٹیکل 25A ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، چائلڈ لیبر ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے جس کی جڑیں غربت، سماجی رویوں اور تیز رفتار آبادی میں اضافہ جیسے عوامل میں پیوست ہیں۔