ایران کے منجمد اثاثوں پر پیشرفت، واشنگٹن اور دوحہ میں اہم مشاورت جاری

Calender Icon ہفتہ 20 جون 2026

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور قطر ایران کو اس کے منجمد مالی(Frozen Assets) اثاثوں تک محدود رسائی فراہم کرنے کے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

مجوزہ منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں تقریباً 6 ارب ڈالر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایران کو دستیاب کرائے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ رقم خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے استعمال کی جائے گی۔

امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے دنیا بھر میں موجود تقریباً 100 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں، جبکہ تہران پہلے مرحلے میں 24 ارب ڈالر تک رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

اخبار کے مطابق 2023 میں جنوبی کوریا میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے تیل محصولات کو خصوصی امریکی استثنیٰ کے تحت قطر منتقل کیا گیا تھا، تاہم اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد ان فنڈز کو دوبارہ منجمد کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں:ایران سے مذاکرات کل متوقع، چیزیں ٹھیک جارہی ہیں: جے ڈی وینس

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے چین، بھارت، عراق اور قطر سمیت مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں موجود فنڈز کے حوالے سے مذاکرات مئی کے آخر میں شروع ہوئے تھےجب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دوحہ کا دورہ کیا تھا۔