ایران کی کامیابی ہماری کامیابی، ایران کی ناکامی ہماری ناکامی ہے: وزیراعظم

Calender Icon منگل 23 جون 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف(Shahbaz Shrif) نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران فارسی میں شعر پڑھا، وزیراعظم کے فارسی شعر پر ایرانی صدر اور دوسرے حکام نے تالیان بجائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر اوران کے وفد کو پاکستان آمد پر ایک بار پھر خوش آمدید کہتا ہوں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں آنے والے وقت میں آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی، اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ اپنے بھائی مسعود پزشکیان کو دورہ پاکستان پر ایک بار پھر خوش آمدید کہتا ہوں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران میں ہزاروں افراد کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ الحمدللّٰہ ہم اس وقت یہاں ایک روشن مستقبل کے لیے بیٹھے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم یہ اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ہم پائیدار معاہدے تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ہم ایرانیوں کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی اور ایم او یو میں فیلڈ مارشل نے ان تھک محنت کی، اللّٰہ بےحد مہربان ہے جس نے ہمیں یہ کامیابی عطا کی۔ ہم نے کہا تھا کہ اس جنگ کو رکوانے کیلئے جو کچھ کرسکے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قطر کے امیر اور وزیراعظم نے اس امن اقدام کے لیے بھرپور حمایت کی۔ سعودی ولی عہد اور ترکیے کے صدر اردوان نے پاکستان کے امن اقدام کی حمایت کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایران کےساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دیں گے، ایران جلد ایک بڑی معیشت بنے گا۔ ایران کے صدر کا ہماری دعوت پر آنا ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ ہم ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں۔

مزید پڑھیں:ایف آئی ایچ پرو لیگ میں بھارت نے بھی پاکستان کو ہرادیا

انہوں نے کہا کہ دنیا میں دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، دنیا میں شرپسند نہیں چاہتے تھے کہ ایم او یو ہوں۔ ایران نے پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کیا جس پر شکر گزار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔