BISP میں اربوں روپے کا اسکینڈل، آڈٹ رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف

Calender Icon بدھ 24 جون 2026

اسلام آباد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مالی سال 2024/25ء کی آڈٹ رپورٹ(Audit Report) میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔

ناقص پروفائلنگ، حکومتی نظام اور ضابطے کی سنگین کمزوریوں کے باعث سرکاری ملازمین، پنشنرز، گاڑیوں کے مالکان اور دہرا اندراج رکھنے والے 6 لاکھ سے زائد افراد کو اربوں روپے کی بے ضابطہ ادائیگیاں کی گئیں۔

میڈیا کے مطابق آڈٹ دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ بی آئی ایس پی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں شریکِ حیات کے ڈیٹا کی پروفائلنگ میں شدید خامیاں پائی گئیں، جس کے تحت 6 لاکھ 01 ہزار 850 کیسز میں 25 ارب روپے سے زائد کے مالی مسائل اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 24 دسمبر 2019ء کو واضح ہدایت جاری کی تھی کہ سرکاری ملازمین اور ان کے شریکِ حیات اس پروگرام کا حصہ نہیں بن سکتے۔

اس کے باوجود مالی سال 2024/25ء کے دوران غیر مشروط نقد منتقلی پروگرام کے تحت 12 ہزار 078 سرکاری ملازمین، پنشنرز یا ان کے شریکِ حیات کو51 کروڑ 57 لاکھ سے زائد روپے غیر قانونی طور پر ادا کیے گئے۔

معلوم ہوا ہے کہ جن حاضر سروس سرکاری ملازمین کو ادائیگیاں کی گئیں ان میں گریڈ 1 تا 16 کے 673 ملازمین کو 25.20 ملین روپے فراہم کیے گئے، گریڈ 17 کے 8 ملازمین کو 0.09 ملین روپے ادا کیے گئے۔

گریڈ 1 تا 16 کے ملازمین کے 9 ہزار 124 شریکِ حیات کو 402.80 ملین روپے دیئے گئے، گریڈ 17 سے 20 کے افسران کے 87 شریکِ حیات کو 2.54 ملین روپے منتقل کیے گئے۔

اسی طرح پنشنرز کو ادائیگیاں کی گئیں جن میں گریڈ 1 تا 16 کے 218 پنشنرز کو 7.41 ملین روپے دیے گئے، گریڈ 17 سے 18 کے 22 ریٹائرڈ افسران کو 0.70 ملین روپے کی ادائیگی کی گئی۔

جن پنشنرز کے شریکِ حیات کو ادائیگیاں ہوئیں ان میں گریڈ 1 تا 16 کے پنشنرز کے 1 ہزار 847 شریکِ حیات کو 74.16 ملین روپے ادا کیے گئے، گریڈ 17 سے 20 کے ریٹائرڈ افسران کے 107 شریکِ حیات کو 2.81 ملین روپے فراہم کیے گئے۔

بتایا جارہا ہے کہ اس سنگین مالی بے ضابطگی کے سامنے آنے کے بعد ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ان تمام نااہل مستفیدین کے اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں:نیند کی کمی نوجوانوں میں کینسر کے خطرے سے جڑی، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے بی آئی ایس پی حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ان تمام افراد کو غیر قانونی طور پر منتقل کی گئی قومی خزانے کی رقم کی فوری واپسی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔