متنازعہ ٹیلیکام بل میں ترمیم کردی گئی، نیا ڈرافٹ تیار

Calender Icon بدھ 24 جون 2026

اسلام آباد، وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل(Amendment Bill) پر پائے جانے والے شدید عوامی اور سیاسی اعتراضات کو دور کرتے ہوئے ایک نیا ڈرافٹ تیار کرلیا۔

وفاقی وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں خدشات پر دوٹوک وضاحت پیش کرتے ہوئے شہریوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ یہ بل بالکل متنازعہ نہیں ہے، اس میں نجی املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرانے ڈرافٹ میں شہریوں کی نجی پراپرٹیز پر فائبریزیشن اور ٹیلی کام تنصیبات لگانے سے متعلق شقوں پر شدید اعتراضات سامنے آئے تھے، جن پر اب مکمل نظرِثانی کرتے ہوئے بیل کا نیا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے۔

بل کے اس نئے ڈرافٹ میں عوام کی نجی جائیدادوں کے قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متبادل اور ممکنہ حل تجویز کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ سرکاری اراضی پر مفت رائٹ آف وے دینے کی تجویز پر بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیرِ قانون نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل کے تحت کسی بھی نجی املاک پر مالکان کی پیشگی اجازت اور حتمی منظوری کے بغیر نہ تو کوئی ٹاور نصب کیا جائے گا اور نہ ہی کسی ٹیلی کام کمپنی کو وہاں کسی قسم کی سرگرمی شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔

مزید پڑھیں:وفاقی وزارتوں کیلئے 482 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس منظوری کا عمل مکمل ہوگیا

قائمہ کمیٹی میں بل کی جن شقوں پر اعتراضات اور ابہام سامنے آئے ہیں، ان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل تیزی سے جاری ہے، قانون سازی کے دوران اعتراضات کا آنا آئینی طریقہ کار کا حصہ ہے، اب ان تمام شقوں میں مزید واضح قانونی وضاحت شامل کر دی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی یا ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔