لاہور ہائیکورٹ کا واٹس ایپ گروپس سے متعلق اہم فیصلہ

Calender Icon جمعرات 2 جولائی 2026

لاہور ہائیکورٹ نے واٹس ایپ گروپس سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ(whats app Group) کا ممبر ہونا یا گروپ کا ایڈمن ہونا ازخود کسی شخص پر فوجداری ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی گروپ میں غیر قانونی، توہین آمیز یا قابلِ اعتراض مواد شیئر کیا جاتا ہے تو اس مواد کو اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہو گا۔

یہ فیصلہ جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج مقدمے میں ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سنایا۔

ملزم پر واٹس ایپ کے ذریعے توہین آمیز مواد پھیلانے کا الزام تھا تاہم اس نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف واٹس ایپ گروپ کا رکن تھا اور اس بنیاد پر اسے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی حکم میں کہا کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونا، گروپ کا ایڈمن ہونا یا خاموش رہنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ متعلقہ شخص نے قابلِ اعتراض مواد کی اشاعت میں حصہ لیا یا جرم کا ارتکاب کیا۔

فوجداری قانون کے تحت کسی شخص کو اس وقت تک ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک اس کے خلاف ایسا ابتدائی ثبوت موجود نہ ہو جس سے ظاہر ہو کہ اس نے خود غیر قانونی مواد اپ لوڈ کیا، آگے بھیجا یا اس کی تشہیر میں کردار ادا کیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر تفتیش کے دوران ٹیکنیکل شواہد، ڈیجیٹل فرانزک یا دیگر قابلِ اعتماد مواد سے یہ ثابت ہو جائے کہ کسی مخصوص شخص نے خود متنازع مواد شیئر کیا یا اس کی ترسیل میں براہِ راست کردار ادا کیا تو قانونی کارروائی اسی شخص کے خلاف ہوگی۔

فیصلے میں عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے پیش کی گئی ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ کو بادی النظر میں قابلِ اعتماد قرار دیا اور کہا کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں ملزم کو اس مرحلے پر ضمانت دینا مناسب نہیں۔ اسی بنیاد پر عدالت نے بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمے کی سماعت بلا تاخیر مکمل کی جائے اور قانون کے مطابق جلد فیصلہ سنایا جائے۔

مزید پڑھیں:پاکستان این ایف سی ایوارڈ فارمولے پر نظرثانی کرے، ورلڈ بینک

اس فیصلے کو سائبر کرائم مقدمات، خصوصاً واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پر مواد کی اشاعت سے متعلق قانونی ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ ذمہ داری صرف اسی شخص پر عائد ہوگی جو غیر قانونی مواد کی اشاعت میں براہِ راست ملوث ہو، نہ کہ ہر ممبر یا ایڈمن پر۔