اسلام آباد( طارق محمود سمیر) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جیل اصلاحات سے متعلق ایک اہم سیمینار منعقد کرایا۔
جس میں چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ کے علاوہ چیف جسٹس صاحبان، ججز ، وکلا ء، وزیر قانون اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ اس سیمینار کا مقصد جیل میں قید قیدیوں کی حالت بہتر بنانے ،انہیں دی جانے والی سہولتوں اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے جیسی تجاویز کو اجاگر کرنا اور اصلاحات پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنانا تھا
اور اسی تناظر میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اس میں مدعو کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کا ایک اہم اقدام تھا اور اسی لیے اس سیمینار میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی اہمیت کی حامل تھی۔
وکلا برادری ہو یا ججز بڑی تعداد میں موجود تھے ۔چیف جسٹس کا کلیدی خطاب تھا جس میں انہوں نے اہم باتیں کی جب کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے خطاب سے قبل ہی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی جس میں پنجاب کے اندر جیلوں میں دی جانے والی سہولتوں جس میں بالخصوص ٹیلی فون کال کی سہولت، کھانے پینے کا معیار بہتر رکھنے، ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولتوں اور دیگر اقدامات کے حوالے سے فلم دستاویزی فلم دکھائی گئی جسے توجہ سے تمام شرکا ء نے دیکھا ۔
مریم نواز نے اپنے خطاب میں جیل میں اپنی قید کے واقعات بھی بیان کیے اور بتایا کہ وہ اپنے والد میاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے جیل گئی تھی اور نیب نے انہیں جیل سے گرفتار کیا ۔جیل میں قید تھی تو والدہ ہسپتال میں بیمار تھیں۔ تمام معاملات جیل کے اندر دیکھے، پرائیویسی نہیں تھی اس لیے اقتدار میں آنے کے بعد جیل اصلاحات پر توجہ دی اور اس کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔
مزیدپڑھیں:اہم شخصیت کانواسہ غیرملکی خواتین کے اغوا،زیادتی کے الزام میں ساتھیوں سمیت گرفتار
انہوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ اس کانفرنس میں چاروں وزرائے اعلیٰ کو ایک ساتھ بٹھایا گیا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں زیادہ تر باتیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جیل میں ہونے والے سلوک، ملاقاتوں پر پابندی اور دیگر معاملات پر بات چیت کی ان کی تقریر انگریزی کی بجائے اردو زبان میں تھی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انگریزی زبان میں خطاب کیا اور اپنے اپنے صوبوں میں مختلف اقدامات اور قیدیوں کو دی جانے والی سہولتوں سے متعلق امور پر بریف کیا۔
سہیل آفریدی نے یہ موقف اپنایا کہ جیل اصلاحات پر اگر عمل کرنا ہے تو اس کا آغاز اڈیالہ جیل سے کیا جانا چاہیے جہاں قید عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے ، فیملی کی ملاقات کرائی جا رہی ہے نہ ہی ان کی اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی ملاقاتوں کی اجازت دی جا رہی ہے ۔یہ کانفرنس کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل تھی اور اس کے اعلامیہ میں بھی اہم باتوں کا اظہار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ اور بائیکاٹ کر دیا ہے۔ سیاسی حلقے اسے اہم فیصلہ بھی قرار دے رہے ہیں اور ان کی رائے میں سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر تحریک انصاف نے جی بی کے الیکشن میں حصہ لے لیا تھا اور وہاں انہیں الیکشن مہم بھی چلانے نہیں دی گئی تھی تو آزاد کشمیر میں انہیں الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے حصہ لینا چاہیے تھا تاکہ پتہ چل سکے کہ پی ٹی آئی کی کتنی مقبولیت ہے ۔
تحریک انصاف کا موقف ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی ہوگی اور آزاد کشمیر میں جو صورتحال ہے ہم اس لیے بھی الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہتے ۔یہ تحریک انصاف کا اپنا نقطہ نظر ہے اور ان کا موقف ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ نون اورپیپلز پارٹی کے ٹکٹوں سے محروم ہونے والے اہم رہنماؤں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے جن میں سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس بھی شامل ہیں۔
تنویر الیاس کے ساتھ پہلے کی طرح اب بھی ہاتھ ہو گیا ہے پیپلز پارٹی میں وہ اس لالچ میں گئے تھے کہ انتخابات جب آئیں گے تو پیپلز پارٹی انہیں دوبارہ وزارت عظمیٰ ٰکا امیدوار بنائے گی مگر پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کا امیدوار بنانا تو درکنار انہیں الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ بھی نہیں دیا گیا ۔
انہوں نے 4 حلقوں سے ٹکٹ مانگا تھا اور انہیں ٹکٹ نہیں ملا جس پر وہ آئی پی پی میں چلے گئے اور آئی پی پی اس وقت آزاد کشمیر کی کنگ پارٹی بنتی جا رہی ہے ۔ علیم خان یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کی آئندہ حکومت کی تشکیل میں ان کی جماعت کا اہم کردار ہوگا۔
اب اس بات کا بھی امکان ہے کہ تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے بعد الیکشن لڑنے والے کئی اہم رہنما تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر کے استحکام پاکستان پارٹی میں آئندہ ایک دو دن میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔












جمعہ 3 جولائی 2026 