غیر ملکی خواتین اغوا و زیادتی کیس، تحقیقات میں پیشرفت، مرکزی ملزم گرفتار

Calender Icon اتوار 5 جولائی 2026

لاہور: ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران(Faisal Kamran) نے کہا ہے کہ غیر ملکی لڑکیوں کو بحفاظت بازیاب کراکے قانونی تقاضے پورے کیے۔ جبکہ مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یکم جولائی کو سیف سٹی کو دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کی اطلاع موصول ہوئی۔ جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرایا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین 26 جون کو اسلام آباد اور 29 جون کو لاہور پہنچی تھیں، جبکہ اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں پولیس کی پہلی ترجیح مغویوں کی محفوظ بازیابی ہوتی ہے۔

فیصل کامران نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران فیملی ٹری اور دیگر شواہد سے اہم پیش رفت ہوئی۔ مرکزی ملزم خاندان کے دباؤ پر خواتین کو ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا کہ راستے میں دونوں خواتین گاڑی سے چھلانگ لگا کر ایک دکان میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کیس کی شفاف تحقیقات کی گئیں اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے خواتین کا میڈیکل کرایا گیا۔

ڈی آئی جی کے مطابق سفارتی سطح پر اسپین اور نیدرلینڈز کے سفارت خانوں سے بھی رابطہ کیا گیا۔ خواتین کے بیانات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے اور بعد ازاں انہیں 3 جولائی کی رات وطن روانہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین نے روانگی کے وقت واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا اور پاکستانی حکام کے تعاون کو سراہتے ہوئے پاکستان کا جھنڈا ساتھ لے جانے کی خواہش ظاہر کی۔

فیصل کامران نے مزید بتایا کہ کیس کے مرکزی کردار وحید کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ متاثرہ خاتون نے تصاویر دیکھ کر اسے مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کیا۔

مزید پڑھیں:سکھر پولیس نے 7 کروڑ روپے مالیت کامسروقہ کپڑا برآمد کرلیا

انہوں نے واضح کیا کہ کیس کی تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں اور مختلف قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔