لاہور، ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب نے صوبے سے گندم غائب (Corruption in Wheat)ہونے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب کی گندم مکمل طورپر ریکارڈ پر موجود، قابلِ حساب اور مختلف شعبوں میں محفوظ انداز میں دستیاب ہے۔
ڈی جی فوڈ کے مطابق گندم کی پیداوار، استعمال اورذخائرکا مکمل ریکارڈ محکمہ خوراک کے پاس موجود ہے، اس لیے گندم غائب ہونے یا اس کے ذخائر کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے کاشتکارمجموعی پیداوارکا تقریباً 55 فیصد گندم اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں، جوان کی گھریلو ضروریات، آئندہ کاشت اورمرحلہ وارفروخت کے لیے استعمال ہوتی ہے، انسانی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہرماہ تقریباً 13 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال کی جاتی ہے۔
ڈی جی فوڈ کے مطابق رواں سیزن کے دوران اب تک تقریباً 45 سے 50 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم دیگرصوبوں کوبھی فراہم کی جا چکی ہے تاکہ ملک بھرمیں آٹے کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پنجاب کی فلور ملز کے پاس تقریباً 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے جبکہ محکمہ خوراک پنجاب کے ذخائر میں تقریباً 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم محفوظ ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم مختلف بیج کمپنیوں کے پاس موجود ہے، جو آئندہ فصل کی کاشت کے لیے مختص ہے۔ڈائریکٹرجنرل فوڈ نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے گندم کی نقل و حرکت، ذخائراور استعمال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو فائدہ عوام تک پہنچائینگے، وزیر پٹرولیم
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ گندم سے متعلق غیر مصدقہ خبروں اورافواہوں پر یقین نہ کریں بلکہ مستند معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع سے رجوع کریں کیونکہ صوبے میں گندم کے ذخائر اوررسد کی صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق اورحکومتی نگرانی میں ہے۔












منگل 7 جولائی 2026 