ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی: امریکا، ایران جنگ بندی معاہدہ خطرے سے دوچار

Calender Icon جمعرات 9 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مؤقف کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر نے کہا تھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہ ایران کے معاملے سے مزید نمٹنا نہیں چاہتے تاہم ان کے حالیہ بیانات نے مفاہمتی یادداشت کے تحت مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔

مزیدپڑھیں:چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فریم ورک کے تحت جنگ بندی طے کی گئی تھی جس کے بعد وسیع تر مذاکرات کا راستہ کھلنا تھا لیکن ایرانی قیادت کے لیے صدر ٹرمپ کے سخت اور توہین آمیز الفاظ، جن میں انہوں نے ایرانیوں کو “سنکی” قرار دیا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کا جھکاؤ سفارتی حل کے بجائے فوجی آپشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔

امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں جارحانہ نہیں بلکہ جوابی کارروائیاں ہیں، وائٹ ہاؤس کے مطابق آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور عالمی معیشت کے لئے اس کی آزادانہ آمدو رفت انتہائی ضروری ہے۔