ٹرمپ کا ترکیہ کو ایف-35 دینے کا عندیہ؛ اسرائیل اور بھارت میں خوف کیوں؟

Calender Icon جمعرات 9 جولائی 2026

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے ترکیہ پر لگی تمام پرانی پابندیاں ختم کر دی ہیں اور یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ترکیہ کو دنیا کا سب سے جدید اور خطرناک ترین مانا جانے والا ایف 35 اسٹیلتھ جنگی طیارہ بیچنے پر غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بھارت اور اسرائیل میں ہلچل مچ گئی ہے۔

امریکا کے اس فیصلے سے ترکیہ میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اسرائیل اور بھارت میں تشویش پھیل گئی ہے۔ اسرائیل کو ڈر ہے کہ ترکیہ کے پاس یہ طیارہ آنے سے اس کی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی، جبکہ بھارت کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ترکیہ کا جگری یار پاکستان ہے، کہیں یہ طیارہ بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو جائے۔

یہ سارا قصہ سمجھنے کے لیے ہمیں چند سال پیچھے جانا پڑے گا۔

ترکیہ اور امریکا پرانے فوجی دوست ہیں لیکن سال 2017 میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے روس سے اس کا ایک جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ’ایس 400‘ خریدنے کا فیصلہ کیا۔

امریکا نے ترکیہ کو بہت دھمکایا کہ اگر اس نے روس کا یہ نظام خریدا تو وہ ایف 35 طیارے کا ریڈار سگنیچر پکڑلے گا اور یہ خفیہ معلومات روس کے ہاتھ لگ جائے گی۔

جب ترکیہ نے امریکا کی بات نہیں مانی تو سال 2019 میں ٹرمپ انتظامیہ نے ترکیہ کو اس طیارے کی فروخت کے پروگرام سے باہر نکال دیا اور سال 2020 میں اس پر سخت معاشی پابندیاں لگا دیں۔

امریکا کی پابندی کے بعد ترکیہ نے اپنا ففتھ جنریشن طیارے بنانے کی تیاری شروع کی۔ جس کے بعد ’ٹی اے آئی کان‘ جسے پہلے ’ٹی ایف ایکس‘ کہا جاتا تھا، وہ تیار کیا گیا۔ یہ ترکیہ کا پانچویں نسل کا، دو انجنوں والا اور ہر طرح کے موسم میں فضائی برتری قائم کرنے والا اسٹیلتھ جنگی طیارہ ہے۔

ترکیہ کو ایف 35 پروگرام سے نکالے جانے کے بعد اسے ’ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز‘ نے خود تیار کیا، اور اس طیارے نے فروری 2024 میں اپنی پہلی کامیاب اڑان بھری تھی۔

اس منصوبے کا مقصد فوج کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور مکمل خود انحصاری حاصل کرنا ہے، جس کے تحت اس کی ابتدائی سپلائی 2028 میں متوقع ہے جبکہ اسے باضابطہ طور پر 2029 تک فوج کا حصہ بنا لیا جائے گا۔

لیکن، اب سات سال بعد حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر اردوان سے ملاقات کے بعد اس فیصلے کو الٹ دیا ہے۔


امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے ”ہمارے ترکیہ کے ساتھ اب بہت بہتر تعلقات ہیں اور ترکیہ کئی طریقوں سے ان دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہمارے ساتھ زیادہ وفادار رہا ہے جنہیں ہم وفادار سمجھتے تھے۔“

انہوں نے ایف 35 کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہترین طیارہ ہے، اب تک کا سب سے بہترین طیارہ، اور ہم ترکیہ کو یہ طیارہ دینے پر ضرور غور کریں گے۔

مزیدپڑھیں:اداروں کی ساکھ متاثر کرنے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

واضح رہے کہ امریکی اسلحہ ساز کمپنی ’لاک ہیڈ مارٹن‘ کا تیار کردہ ’ایف 35 لائٹننگ ٹو‘ ایک جدید، ایک نشست اور ایک انجن والا طیارہ ہے جو آواز کی رفتار سے تیز اڑنے اور کسی بھی ریڈار سے چھپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے فضائی برتری حاصل کرنے اور دشمن کے ٹھکانوں پر بالکل درست نشانہ لگانے والے مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

تاہم، اس طیارے کی دوسرے ممالک کو فروخت پر امریکا کا سخت کنٹرول ہے، اور امریکا ٹیکنالوجی کی حفاظت کے خدشات اور خطے میں فوجی توازن پر پڑنے والے اثرات کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ہی صرف اپنے قابلِ اعتماد اتحادیوں کو اسے بیچنے کی منظوری دیتا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب ترکیہ کے ساتھ ٹوٹے ہوئے تعلقات کو دوبارہ جوڑنا چاہتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ترکیہ کا دنیا کے نقشے پر ایسی جگہ ہونا ہے جو ایشیا اور یورپ کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس لیے یہ ایف 35 طیارے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا ایک نیا فوجی پل بن رہے ہیں۔

لیکن ٹرمپ کے اس فیصلے پر سب سے زیادہ اسرائیل غصے میں مبتلا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر اردوان پر شدید الزامات لگائے اور کہا کہ ترکیہ کو یہ طیارے یا ان کے انجن بالکل نہیں ملنے چاہئیں، کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا جو اس وقت اسرائیل کی فضائی برتری کی وجہ سے قائم ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے پاس بھی ایف 35 طیارے موجود ہیں جو اسے کسی بھی ملک کی فضائی حدود ست دور رہتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

اسرائیل کو یہ بھی پریشانی ہے کہ ترکیہ کے تعلقات مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ بہت مضبوط ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف بھارت بھی اپنے دوست اسرائیل کی طرح پریشان ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کی فوجیں اکثر مل کر جنگی مشقیں کرتی ہیں اور پاکستان نے ترکیہ سے کئی ڈرون اور جنگی بحری جہاز بھی خریدے ہیں۔

بھارتی صحافی سندیپ انیتھن کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہوگی کہ اگر مستقبل میں بھارت اور پاکستان کی کوئی لڑائی ہوتی ہے تو کہیں ترکیہ کے یہ ایف 35 طیارے پاکستان کی مدد کے لیے نہ آ جائیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سال 1971 میں جب بھارت اور پاکستان کی جنگ ہوئی تھی، تب اردن نے اپنے نو امریکی ایف 104 طیارے پاکستان کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ادھار دیے تھے اور اس میں امریکا کی رضامندی بھی شامل تھی۔ اس لیے بھارتی فوج کے منصوبہ ساز اس خطرے کو ہلکا نہیں لے سکتے۔

اگرچہ ترکیہ کو ایف 35 طیارے اصل میں ملنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ اسے روس کا نظام ہٹانا پڑے گا، لیکن امریکا کے اس ایک قدم نے نئی دہلی اور یروشلم میں کھلبلی ضرور مچا دی ہے۔