قومی شناختی کارڈ بلاکیج، لاہورہائیکورٹ سے فیملی کورٹ کا حکم کالعدم قرار

Calender Icon جمعہ 10 جولائی 2026

لاہور ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ (Family Court)کی جانب سے شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کسی بھی شہری کی شناخت ثابت کرتی ہے شہری سے حق نہیں چھینا جاسکتا،قومی شناختی کارڈ فیملی کورٹ کی جانب سے بلاک نہیں کیا جاسکتا۔

افغان شہریوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے 3 افسران گرفتار

لاہور ہائیکورٹ سیشن کورٹ اور فیملی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتی ہے،شہری ناصر علی رانجھا نے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں ،جسٹس مزمل اختر شبیر نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

درخواست گزار کی اہلیہ نے نان و نفقہ کیس میں ڈگری پر عملدرآمد کروانے کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے فیصلے کو سیشن کورٹ گجرات چیلنج کیا،درخواست گزار کے وکیل کے مطابق سیشن کورٹ گجرات نے درخواست کو خارج کردیا۔

مزید پڑھیں:نسلہ ٹاورمسماری، وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لئے

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق جب فیملی کورٹ نے طلب کیا تو اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھا۔