حکومت نے نئی آٹو پالیسی کو سرمایہ کار دوست بنانے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں، تاہم پالیسی میں شامل ٹیکس سے متعلق اہم تجاویز کو حتمی شکل دینے سے قبل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے مشاورت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف (International Monetary Fund – IMF) نے 800 سی سی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کرنے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا، جس کے بعد حکومت نے اس معاملے پر قرض دہندہ ادارے سے مزید بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف (Shehbaz Sharif) نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایسی آٹو پالیسی تیار کی جائے جو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہو، نئی سرمایہ کاری کو فروغ دے اور پاکستان کی آٹو انڈسٹری کی ترقی میں معاون ثابت ہو۔
مجوزہ آٹو پالیسی کا مقصد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینا اور آٹو سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاکستان میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کو بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ ان کے معیار اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت کو بہتر بنایا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 میں نمایاں کردار ادا کرنیوالے جنوبی افریقا کے نوجوان فٹبالر انتقال کر گئے
حکومت پالیسی کی منظوری سے قبل مجوزہ ٹیکس مراعات، رعایتوں اور دیگر مالی اقدامات پر آئی ایم ایف سے تفصیلی مشاورت کرے گی، جس کے بعد ہی حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہداف کے تحت پیٹرول سے چلنے والی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے انجنوں پر کاربن ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔
اگر اس تجویز کی منظوری دی گئی تو یہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ماحولیاتی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہوگی، تاہم اس سلسلے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔












ہفتہ 11 جولائی 2026 