آٹو پالیسی میں تاخیر، ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 13 لاکھ روپے سے زائد اضافہ، کئی کمپنیوں نے ڈیلیوریاں روک دیں

Calender Icon اتوار 12 جولائی 2026

مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) 8.5 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کیے جانے کے بعد پاکستان میں گاڑیاں اسمبل کرنے والی متعدد کمپنیوں نے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بعض کمپنیوں نے نئی قیمتوں اور آٹو پالیسی کے اعلان کے انتظار میں انوائسنگ اور گاڑیوں کی ڈیلیوری عارضی طور پر روک دی ہے۔

حکومت کی جانب سے آٹو پالیسی 2026-31 تاحال جاری نہیں کی گئی، حالانکہ سابقہ آٹو پالیسی 2021-26 کی مدت 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی ہے۔

ٹویوٹا اور ہونڈا کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

انڈس موٹر کمپنی (Indus Motor Company) نے اپنی ٹويوٹا کرولا کراس ہائبرڈ (Toyota Corolla Cross Hybrid) کے دو مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں بالترتیب 13 لاکھ 64 ہزار روپے اور 13 لاکھ 14 ہزار روپے اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی نئی قیمتیں ایک کروڑ 2 لاکھ 99 ہزار روپے اور 98 لاکھ 49 ہزار روپے ہو گئی ہیں۔

اسی طرح ہونڈا اٹلس کارز (Honda Atlas Cars Limited) نے اپنی ایچ آر-وی ای (HR-V e:HEV) ہائبرڈ گاڑی کی قیمت میں 13 لاکھ 70 ہزار روپے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت ایک کروڑ 3 لاکھ 69 ہزار روپے مقرر کر دی ہے۔

کئی کمپنیوں نے انوائسنگ اور ڈیلیوری روک دی

مارکیٹ ذرائع کے مطابق دیگر اسمبلرز نے اگرچہ ابھی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے ہائبرڈ گاڑیوں کی انوائسنگ اور ڈیلیوری عارضی طور پر روک دی ہے۔

مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی ایم پی اے نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو ان کے بھائی کیخلاف خط لکھ دیا

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو توقع ہے کہ حکومت نئی آٹو پالیسی میں کسی قسم کی رعایت دے سکتی ہے یا ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد 25 فیصد جی ایس ٹی میں کمی کر سکتی ہے، اسی لیے وہ حتمی فیصلے تک انتظار کر رہی ہیں۔

ہائبرڈ گاڑیوں کی طلب متاثر ہونے کا خدشہ

آٹو ڈیلرز کے مطابق قیمتوں میں 13 سے 19 لاکھ روپے تک اضافے کے بعد ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں (Plug-in Hybrid Electric Vehicles – PHEVs) بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے حکومت کا ایندھن کی بچت کرنے والی گاڑیوں کے فروغ کا ہدف متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ اضافی قیمت ہر خریدار کے لیے قابل برداشت نہیں ہوگی۔

نئی آٹو پالیسی تاحال نافذ نہ ہو سکی

اسمبلرز کا کہنا ہے کہ انہیں نئی آٹو پالیسی کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں، حالانکہ حکومت پہلے دعویٰ کر چکی ہے کہ پالیسی کا مسودہ تیار کرکے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کی جا چکی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز (Topline Securities) کے تجزیہ کار اسد علی (Asad Ali) کے مطابق حکومت نے نئی آٹو پالیسی کا نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں کیا، حالانکہ اسے یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونا تھا۔

وزیر خزانہ کا مؤقف

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب (Muhammad Aurangzeb) نے 12 جون کو بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ آٹو پالیسی 2026-31 وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے زیرِ غور ہے اور وزیراعظم و وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں اس کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

تاہم انہوں نے اعلان کیا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، کاروں اور بسوں کے لیے مکمل ناک ڈاؤن (CKD) کٹس کی درآمد پر دی جانے والی مراعات 30 جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہیں۔

درآمدی ڈیوٹی میں کمی

اسد علی کے مطابق حکومت نے ایس آر او 1064(I)/2026 جاری کرتے ہوئے قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کا دوسرا مرحلہ نافذ کر دیا ہے۔

نئے نوٹیفکیشن کے تحت:

ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) کی زیادہ سے زیادہ شرح 50 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔
کسٹمز ڈیوٹی اور اضافی کسٹمز ڈیوٹی (ACD) میں بھی مختلف مصنوعات پر کمی کی گئی ہے۔
سی کے ڈی کٹس، آٹو پارٹس اور مکمل تیار شدہ گاڑیوں (CBU) پر کسٹمز ڈیوٹی 50 تا 100 فیصد سے کم کرکے 30 تا 50 فیصد کر دی گئی ہے۔
کمرشل بنیادوں پر درآمد ہونے والی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ حکومت کا ہدف 2030 تک ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
مقامی اسمبلرز کو بڑا فائدہ متوقع نہیں

ماہرین کے مطابق درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے باوجود مقامی اسمبلرز کو فوری طور پر زیادہ فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ وہ پہلے ہی ایس آر او 656 کے تحت رعایتی کسٹمز ڈیوٹی پر سی کے ڈی کٹس اور پرزہ جات درآمد کر رہے ہیں۔