بنگلہ دیش کا 13 ارب ڈالر کا منصوبہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا

Calender Icon اتوار 12 جولائی 2026

بنگلہ دیش(Bangladesh) نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے پہلے ایٹمی بجلی گھر روپ پور نیوکلیئر پاور پلانٹ(Rooppur Nuclear Power Plant) کو قومی توانائی منصوبے کا اہم حصہ بنا دیا ہے، جو مکمل ہونے کے بعد ملک کی مجموعی بجلی کی ضرورت کا تقریباً 15 فیصد پورا کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگلہ دیش میں دریائے پدما کے کنارے تعمیر ہونے والا یہ 13 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ روس کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ منصوبے میں روسی ڈیزائن کے دو جدید نیوکلیئر ری ایکٹر نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی تکمیل 2028 میں متوقع ہے۔

مزیدپڑھیں:ایرانی حملوں کے خلاف خلیجی ممالک متحد، سعودی عرب، عمان اور کویت کے سخت بیانات سامنے آگئے

رپورٹ کے مطابق منصوبے کا مقصد تیزی سے صنعتی ترقی کرنے والی بنگلہ دیشی معیشت کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو کم لاگت اور طویل المدتی بنیادوں پر پورا کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوا تو یہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک قابلِ عمل ماڈل بن سکتا ہے، جو توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کو ایک مؤثر متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔