دیامر میں سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی، متعدد مکانات اور پل تباہ، شاہراہِ قراقرم بند

Calender Icon پیر 13 جولائی 2026

گلگت بلتستان(Gilgit Baltistan) کا ضلع دیامر ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کی زد میں آ گیا ہے، جہاں شدید بارشوں کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلوں نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

تفصیلات کے مطابق سیلاب کے باعث بنیادی ڈھانچے اور املاک کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ متعدد علاقوں میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تھور، داریل، بونر داس اور نیاٹ سمیت مختلف علاقوں میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ متعدد رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، رہائشی آبادیاں محصور ہوگئیں، جبکہ زرعی اراضی، مکانات، فصلیں، درخت اور بھاری مشینری سیلابی ریلوں کی زد میں آ گئی۔

تھور کے علاقے ٹھوسرکا میں سیلابی ریلوں نے رہائشی آبادی کو دونوں اطراف سے گھیر لیا، جس کے باعث مکین پوری رات گھروں میں محصور رہے۔ کئی گھروں میں ملبہ داخل ہوگیا جبکہ زرعی زمینیں، کھڑی فصلیں اور درخت بھی بہہ گئے۔

تھور کی مرکزی رابطہ سڑک متعدد مقامات پر بند ہونے سے ٹریفک معطل ہوگئی اور بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہوگئی۔

دوسری جانب داریل کے کھنبری شنگ شر نالہ میں آنے والے فلش فلڈ نے دو رہائشی مکانات، مویشیوں اور حسنات کمپنی کی بھاری مشینری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مزیدپڑھیں:راولپنڈی رنگ روڈ کا افتتاح ایک بار پھر غیر یقینی، 14 اگست کی ڈیڈ لائن بھی خطرے میں

اطلاعات کے مطابق 13 ڈمپر، ایک ایکسویٹر، ایک کریش پلانٹ اور دو واٹر ٹینکر سیلاب میں بہہ گئے، جبکہ زرعی زمینوں، فصلوں، درختوں اور رابطہ سڑک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

بونر داس میں سیلاب کے باعث شاہراہِ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی، جس سے مسافر بردار و مال بردار گاڑیوں اور سیاحوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

ادھر نیاٹ میں بھی شدید طغیانی کے باعث رابطہ سڑک کئی مقامات پر متاثر ہوئی، آمدورفت معطل ہو گئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور متعدد مقامات پر رات گئے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ مقامی متاثرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری امدادی سرگرمیوں، بجلی کی بحالی اور متاثرہ سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا مطالبہ کیا ہے۔