ایرانی وزارت خارجہ ںے کہا ہے کہ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، کیونکہ ایران نے کسی بھی حملے میں پہل نہیں کی اور اس کے تمام اقدامات حقِ خود دفاع کے تحت کیے گئے۔
تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان اسماعیل بقائی(Ismail Baqai) کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں پر کی جانے والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ دفاع کے دائرے میں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے والے ممالک سے بھی اس حوالے سے سوال کیا جانا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ایران کے مؤقف کو نظر انداز کیا، جبکہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت اس وقت بحران کا شکار ہے اور جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی اس پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے معاہدے کی ابتدائی ایک ماہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، لہٰذا کوئی بھی ایران پر اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کا الزام نہیں لگا سکتا۔ ان کے مطابق امریکی انتظامیہ کا طرزِ عمل اب پوری دنیا کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران جہازرانی کے تحفظ کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار وضع کر رہا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے عمان پر دباؤ کے باعث اس سلسلے میں پیش رفت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے، جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورۂ عمان کامیاب رہا۔
مزید پڑھیں:یورپی ممالک کا روس پر سائبرحملوں کا الزام، نئی پابندیاں عائد کردیں
اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر لبنان اور فلسطین میں مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہر مرحلے پر مذاکرات میں قومی عزم اور عوامی مفادات کو مقدم رکھا، تاہم امریکی رویے نے سفارتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔












پیر 13 جولائی 2026 


