پاکستان کے صوبے بلوچستان کی گوادر بندرگاہ نے بحری تجارتی جہازوں کو بنکرنگ کی سہولت کا آغاز کردیا، این ایل سی اور نجی بین الاقوامی کمپنی کے تعاون سے ملکی ریفائنری میں تیار کردہ ایندھن بحری جہاز کو فراہم کیا۔
گوادر پورٹ پرپاکستان نے اپنی تاریخ کا پہلا میرین بنکرنگ آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا، جس کے بعد ملک اب اپنی تینوں بڑی تجارتی بندرگاہوں سے بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کی سہولت فراہم کررہا ہے۔
اس تاریخی آپریشن کے دوران غیر ملکی ایل این جی جہاز LNG ENUGU کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے معیار کے مطابق تیار کردہ ویری لو سلفر فیول آئل (VLSFO) کے 2500 میٹرک ٹن فراہم کیے گئے۔
یہ بحری ایندھن ملکی ریفائنری Cnergyico PK Limited میں تیار کیا گیا، جبکہ بنکرنگ کا عمل عالمی توانائی کمپنی Vitol نے اپنی بنکرنگ بارج Marine Ista کے ذریعے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کے تعاون سے انجام دیا۔
پاکستان نے اب باضابطہ طور پر اپنی تینوں تجارتی بندرگاہوں پر بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل بحری بنکرنگ نظام قائم کر لیا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بعد پاکستان اب بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر فجیرہ اور سنگاپور جیسے علاقائی ری فیولنگ مراکز کی سطح پر سہولت فراہم کرے گا۔
تینوں تجارتی بندرگاہوں پر پاکستان سنگل ونڈو (Pakistan Single Window) نظام کے تحت الیکٹرانک کسٹمز میرین بنکرنگ رولز کے مطابق ایک معیاری اور بین الاقوامی طور پر تصدیق شدہ جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کا نیٹ ورک فعال ہو چکا ہے۔
پاکستان کا قومی میرین بنکرنگ نظام عالمی توانائی کمپنی Vitol Bunkers، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) اور مقامی آئل ریفائنری Cnergyico PK Limited کے باہمی تعاون سے چلنے والے ایک مربوط فریم ورک کے تحت کام کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں:افیئر کی افواہوں کے باوجود گووندا کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی، سنیتا آہوجہ
یہ کامیاب آپریشن اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ پہلی مرتبہ گوادر پورٹ پر کسی سمندر میں سفر کرنے والے تجارتی جہاز کو بنکرنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے پاکستان کی بحری ایندھن کی فراہمی کی صلاحیت کراچی اور پورٹ قاسم سے آگے بڑھ کر گوادر تک وسیع ہو گئی ہے۔ یہ کامیابی ایک اور اہم سنگِ میل بھی ہے۔












منگل 14 جولائی 2026 


