شرح سود بڑھنے کے خدشات، عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں گرگئیں

Calender Icon بدھ 15 جولائی 2026

عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں سرمایہ کاروں نے ایک روز قبل دو فیصد سے زائد اضافے کے بعد منافع حاصل کرنے کو ترجیح دی، جبکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی اور امریکی شرح سود سے متعلق خدشات کو دوبارہ جنم دے دیا۔

عالمی بلین مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ (Spot Gold) کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,035.67 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,042.20 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئے۔

اس سے قبل منگل کے روز امریکی افراط زر کے جون کے اعدادوشمار توقعات سے بہتر آنے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا اور قیمت 4,100.49 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی، تاہم بدھ کو سرمایہ کاروں کی توجہ دوبارہ عالمی حالات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں پر مرکوز ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور مذاکرات بحال نہ ہونے کی صورت میں آئندہ ہفتے توانائی کے مراکز اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ دیکھا گیا۔

مارکیٹ تجزیہ کار کیلِون وونگ (Kelvin Wong) کے مطابق سرمایہ کار اب امریکی صارفین کی مہنگائی کے اعدادوشمار سے آگے بڑھ چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق پابندیوں اور تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مارکیٹ کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے سونے پر دباؤ بڑھا ہے۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فائنل کی آخری گیند اور ہاف ٹائم شو کے ملبوسات نیلام ہوں گے

ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بلند قیمتیں عالمی مہنگائی کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہیں، جس کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ چونکہ سونا کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی سرمایہ کاری کشش کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب سرمایہ کار اب امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (Producer Price Index – PPI) کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے مہنگائی کے مستقبل کے رجحان کے حوالے سے مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔