کیا امریکا ایران کے جنوبی جزائر پر قبضہ کر سکتا ہے؟ ماہرین نے بڑے خطرات اور بھاری قیمت سے خبردار کر دیا

Calender Icon جمعرات 16 جولائی 2026

ایران کے جنوبی جزائر قشم،(qeshm island) کیش اور ابو موسیٰ پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد یہ سوال دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے کہ کیا امریکا ایرانی سر زمین پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے؟

الجزیرہ کی جانب سے شائع کی گئی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق مارچ میں جنگ کے ابتدائی مرحلے کے دوران امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی محکمۂ دفاع جزیرہ خارگ پر کارروائی کی تیاری کر رہا ہے جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔

اس کے بعد زمینی کارروائی کے امکانات پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک انٹرویو میں ایرانی جزائر پر قبضے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا تھا جس سے اس بحث کو مزید تقویت ملی۔

رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق امریکا کے پاس فوجی لحاظ سے ایرانی جزائر پر قبضہ کرنے اور انہیں عارضی طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کی صلاحیت موجود ہے، مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے تقریباً 50,000 فوجی تعینات ہیں جبکہ بحری، فضائی اور آبی حملہ آور صلاحیت بھی امریکا کے پاس موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی جزیرے پر قبضہ کرنا اور اسے طویل عرصے تک سنبھالنا 2 مختلف معاملات ہیں۔

قشم جیسے بڑے جزیرے پر قبضہ خاص طور پر مشکل ہو گا کیونکہ یہ براہِ راست ایرانی ساحل کے قریب واقع ہے، چھوٹے جزائر پر قبضہ نسبتاً آسان ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی ایرانی میزائلوں، ڈرونز، توپ خانے اور تیز رفتار کشتیوں کی زد میں رہیں گے۔

غیر ملکی ماہرین کی رائے کے مطابق ایسی کارروائی کے لیے کم از کم 5,000 سے 10,000 فوجیوں کی ابتدائی تعیناتی درکار ہو گی جبکہ کئی جزائر پر بیک وقت قبضے کی صورت میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

مزیدپڑھیں:امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں بھیجے گا: جے ڈی وینس

رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ایران کو جزائر فوری طور پر واپس لینے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ وہ مسلسل حملوں کے ذریعے امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچا کر ان مقامات کو امریکا کے لیے مہنگا اور سیاسی طور پر نقصان دہ بنا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جزائر پر قبضہ کرنے سے آبنائے ہرمز میں ایران کی مداخلت مکمل طور پر ختم نہیں ہو گی کیونکہ ایران اپنے میزائل اور ڈرون حملے زمین سے بھی جاری رکھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی ایران کی سمندری صلاحیت ختم کرنا چاہتا تو اسے صرف جزائر نہیں بلکہ ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں بھی وسیع فوجی کارروائی کرنا ہو گی جو ایک بڑی زمینی جنگ کا آغاز بن سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی مہم ناصرف فوجی اعتبار سے انتہائی مہنگی ہو گی بلکہ امریکا کے اندر بھی اس حوالے سے شدید سیاسی ردِعمل پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً صدر ٹرمپ کے حامی حلقوں میں جہاں اس کا موازنہ عراق جنگ سے کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ایرانی جزائر پر قبضہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھا سکتا ہے، جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے، تیل کی ترسیل خطرے میں پڑ سکتی ہے، انشورنس اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور خلیجی ممالک بھی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے جزائر پر قبضہ کرتا ہے تو وہ اس قبضے کو ایک بڑی فوجی کامیابی کی شکل میں پیش کر سکتا ہے لیکن اس سے امریکا ایک طویل، مہنگی اور پیچیدہ علاقائی جنگ میں الجھ سکتا ہے جس سے واشنگٹن بظاہر بچنا چاہتا ہے۔