یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ: پاکستان بدستور سب سے بڑا مستفید ملک قرار

Calender Icon جمعرات 16 جولائی 2026

اسلام آباد: یورپی کمیشن کی تازہ جی ایس پی پلس (GSP+) رپورٹ میں پاکستان کو ایک بار پھر اس اسکیم سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 کے دوران پاکستان کی 7.5 ارب یورو مالیت کی برآمدات جی ایس پی پلس رعایتوں سے مستفید رہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف بچت حاصل ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس رعایتوں سے استفادے کی شرح 95.1 فیصد تک پہنچا دی، جبکہ 2024 میں یورپی یونین نے پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد درآمد کیا۔ پاکستانی ملبوسات، ٹیکسٹائل، چمڑے، تیار خوراک اور دیگر مصنوعات نے ان تجارتی رعایتوں سے نمایاں فائدہ اٹھایا۔
یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان نے جی ایس پی پلس سے متعلق تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق برقرار رکھی اور یورپی یونین کے مانیٹرنگ عمل کے ساتھ مسلسل اور باقاعدہ تعاون جاری رکھا۔
رپورٹ میں پاکستان کی متعدد ادارہ جاتی اور قانونی اصلاحات کو بھی سراہا گیا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو عالمی اے اسٹیٹس ملنا اہم پیش رفت قرار دیا گیا، جبکہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام سے متعلق قانون سازی کو اقلیتوں کے تحفظ کی جانب مثبت قدم قرار دیا گیا۔
اسی طرح انسدادِ تشدد قانون کے عملی قواعد، تربیتی اقدامات، جیل اصلاحات، خواتین کے تحفظ، گھریلو تشدد کے تدارک، کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی، محنت کشوں کے حقوق، جبری مشقت اور بچوں سے مشقت کے خاتمے کے اقدامات کو بھی رپورٹ میں مثبت پیش رفت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
رپورٹ میں پاکستان کی موسمیاتی پالیسی، کاربن مارکیٹ کے رہنما اصولوں، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، انسدادِ منشیات کے نئے قوانین اور ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ نظام کو بھی سراہا گیا۔
یورپی کمیشن نے پاکستان کے لیے 400 ملین یورو کے ترقیاتی اور اصلاحاتی تعاون کے عزم کا بھی اعادہ کیا، جسے دونوں فریقوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کا مظہر قرار دیا گیا۔