اے آئی سے لیس مائیکرو ڈرونز مچھروں کے خاتمے کیلئے تیار

Calender Icon جمعہ 17 جولائی 2026

امریکی ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ ٹورنایول نے ایسے جدید مائیکرو ڈرونز(Micro Drones) تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو فضا میں اڑتے ہوئے مچھروں اور دیگر چھوٹے کیڑوں کا تعاقب کرکے انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی سے لیس یہ ڈرون مستقبل میں مچھروں پر قابو پانے کا کم لاگت اور مؤثر حل ثابت ہو سکتے ہیں۔

وائی کومبینٹر کی معاونت سے کام کرنے والی کمپنی کے مطابق اس منصوبے کا مقصد مچھروں کے خاتمے کی لاگت کو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا تک کم کرنا ہے، مائیکرو ڈرونز کے غول شہری علاقوں میں مچھروں کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کریں گے، جس سے کیمیائی سپرے اور دیگر مہنگے یا ممکنہ طور پر نقصان دہ طریقوں پر انحصار بھی کم ہو سکے گا۔

کمپنی کے شریک بانی الیکس توسان نے 14 جولائی کو ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ایک مائیکرو ڈرون کو فضا میں ایک پتنگے کا تعاقب کرتے ہوئے اور آزمائشی ماحول میں اسے کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا، اگرچہ یہ تجربہ مچھر کے بجائے پتنگے پر کیا گیا اور محدود ماحول تک ہی رکھا گیا، تاہم کمپنی اسے اس ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:کراچی پورٹ پر پہلی رورو شپمنٹ پہنچ گئی، 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں درآمد

ٹورنایول کے مطابق مجوزہ ڈرونز کا وزن صرف 40 گرام ہوگا اور ان میں سمارٹ فونز میں استعمال ہونے والے مائیکروفونز، الٹراسونک سینسرز اور جدید سافٹ ویئر نصب ہوں گے، یہ ڈرون الٹراسونک لہریں خارج کرکے ان کی بازگشت کا تجزیہ کرتے ہیں، جبکہ مچھروں کے پروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی مخصوص ڈوپلر آواز کی مدد سے انہیں دیگر اڑنے والے کیڑوں سے الگ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کمپنی کے انجینئرز الیکس توسان اور کلوویس پیڈالو کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے مائیکرو ڈرونز کے غول بڑے شہروں میں مچھروں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے، صرف 10 چھوٹے ڈرون ایک مربع کلومیٹر کے علاقے میں خون چوسنے والے مچھروں کی تعداد مؤثر انداز میں کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جس سے صحتِ عامہ کے شعبے میں بھی مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔