پاکستان ایران تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے، ایف پی سی سی آئی

Calender Icon ہفتہ 18 جولائی 2026

پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے صنعتی شراکت داری، بینکاری روابط اور سرحد پار تجارتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارتی حجم آئندہ تین سے پانچ برسوں میں موجودہ 2.8 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ (Atif Ikram Sheikh) نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ تجارتی حجم دونوں ہمسایہ ممالک کی حقیقی معاشی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے ایران کے صوبہ اراک (Arak) سے آنے والے اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر مضبوط صنعتی شراکت داری قائم کرے۔

ایرانی وفد کی قیادت اراک چیمبر آف کامرس، انڈسٹریز، مائنز اینڈ ایگریکلچر (Arak Chamber of Commerce, Industries, Mines and Agriculture) کے صدر ناصر بیگی (Nasser Beigi) کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران صنعتی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

عاطف اکرام شیخ (Atif Ikram Sheikh) نے بتایا کہ مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہا، جس میں پاکستان کی برآمدات 684 ملین ڈالر جبکہ ایران سے درآمدات 2.1 ارب ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، اسی لیے ایف پی سی سی آئی نے آئندہ تین سے پانچ برس میں تجارتی حجم کو سالانہ 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا ہے۔

ناصر بیگی (Nasser Beigi) نے کہا کہ اراک صوبہ بھاری مشینری، انجینئرنگ آلات، آٹو پارٹس، زرعی ٹیکنالوجی اور کان کنی کے شعبوں میں جدید صنعتی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کے صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبے کی ضروریات سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں ایران کے کمرشل اتاشی مراد نعمتی (Murad Nemati) نے کہا کہ جاری کاروباری مذاکرات کا مقصد ایران کے صنعتی شعبے کی استعداد کو پاکستانی سرمایہ کاروں کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، پیٹروکیمیکلز، کان کنی، انجینئرنگ، گھریلو برقی آلات اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے وسیع مواقع موجود ہونے پر زور دیا۔

مزیدپڑھیں:ایرانی حملے کے بعد کویت کے بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی

ایف پی سی سی آئی (FPCCI) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں (Saqib Fayyaz Magoon) نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کاروباری تعلقات کو نئی حکمت عملی کے تحت فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، تاہم معاشی تعاون اب بھی اپنی اصل استعداد سے کہیں کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی خیرسگالی کو مؤثر معاشی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے تجارتی طریقہ کار کو آسان بنانا، بینکاری اور ادائیگی کے باقاعدہ نظام قائم کرنا، سرحدی تجارت کو سہل بنانا اور لاجسٹکس و ٹرانسپورٹ کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایف پی سی سی آئی پاکستان اور ایران کے تاجروں کے درمیان تجارتی شراکت داری کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔