کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

Calender Icon ہفتہ 18 جولائی 2026

ایران(Iran) اور امریکا(United States) کے درمیان حالیہ مہینوں سے جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اس کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں ہیں جہاں حکومت وقتاً فوقتاً پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کر رہی ہے۔ تاہم بلوچستان میں اس صورتحال کا ایک الگ پہلو بھی سامنے آیا ہے جہاں غیر قانونی طور پر اسمگل ہونے والے ایرانی پیٹرول کی قیمت میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں سپلائی محدود ہونے کے باعث ایرانی پیٹرول اس وقت 299 سے 305 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ کئی علاقوں میں اس کی دستیابی بھی متاثر ہوئی ہے۔

قیمت کا فرق کم، طلب بھی گھٹنے لگی

ایرانی پیٹرول کے کاروبار سے وابستہ محمد احمد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں ایرانی اور پاکستانی پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 70 روپے فی لیٹر تک فرق ہوتا تھا تاہم اب یہ فرق کم ہو کر صرف 6 سے 10 روپے رہ گیا ہے جس کے باعث ایرانی پیٹرول کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے۔

ان کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی 3 بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، سپلائی چین پر بعض بااثر عناصر کا کنٹرول، جو مصنوعی قلت پیدا کرکے ایرانی پیٹرول مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ دوسری، حکومت کی جانب سے ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں، جن کی وجہ سے اس کی ترسیل اور دستیابی پہلے جیسی نہیں رہی۔ تیسری وجہ ایران میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال ہے، جس کے باعث پیٹرول کی سپلائی اور ترسیلی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

محمد احمد کا کہنا تھا کہ انہی عوامل کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں صارفین دوبارہ پاکستانی پیٹرول استعمال کرنے لگے ہیں کیونکہ قیمت کا فرق اب اتنا کم رہ گیا ہے کہ غیر قانونی ایرانی پیٹرول خریدنے میں پہلے جیسا معاشی فائدہ نہیں رہا۔

شہریوں کے اخراجات میں اضافہ

دوسری جانب کوئٹہ کے رہائشی حمزہ خان نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے قبل ایرانی پیٹرول 200 سے 220 روپے فی لیٹر میں بآسانی دستیاب تھا جس سے عام شہریوں، طلبہ اور کم آمدنی والے طبقے کو خاطر خواہ ریلیف ملتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب نہ صرف ایرانی پیٹرول کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے بلکہ اس کا معیار بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ دوسری طرف پاکستانی اور ایرانی پیٹرول کی قیمت میں فرق بھی انتہائی کم رہ گیا ہے، جس کے باعث بیشتر شہری مجبوری میں پاکستانی پیٹرول استعمال کر رہے ہیں جس سے ان کے ماہانہ سفری اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پشاور میں سرکاری نرخ بے اثر: 20 روپے کی روٹی 40 روپے میں فروخت، شہری پریشان

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں ایرانی پیٹرول محض ایک سستا ایندھن نہیں بلکہ کئی برسوں سے مقامی معیشت اور روزمرہ زندگی کا حصہ رہا ہے۔ سرحدی علاقوں سے غیر قانونی طور پر آنے والا ایرانی پیٹرول سرکاری نرخوں کے مقابلے میں نسبتاً سستا ہونے کے باعث عام شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کی پہلی ترجیح سمجھا جاتا تھا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں تین اہم عوامل نے اس کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ پہلا، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات، جنہوں نے سپلائی متاثر کی۔ دوسرا، حکومت پاکستان کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات، جس کے نتیجے میں سرحدی راستوں پر نگرانی مزید سخت کی گئی۔ تیسرا، سپلائی میں کمی کے باعث مقامی سطح پر ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت، جس نے قیمتوں کو مزید بڑھا دیا۔

رجحان قانونی ایندھن کی طرف منتقل

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب غیر قانونی ایرانی پیٹرول اور قانونی پاکستانی پیٹرول کی قیمت میں فرق صرف چند روپے رہ جائے تو صارفین کا رجحان فطری طور پر قانونی، معیاری اور آسانی سے دستیاب ایندھن کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ بلوچستان میں اس وقت یہی رجحان واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایرانی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں کمی کا سلسلہ برقرار رہا تو سرحدی علاقوں میں اس غیر رسمی کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب سرکاری پیٹرول پمپس پر طلب میں اضافہ ہوگا تاہم مہنگے ایندھن کے باعث عام شہریوں کے مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔