پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبے دوبارہ شروع کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی تو وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا جائے تاکہ وہ خود ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کر سکیں۔
مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انہیں مظفرآباد، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے بے پناہ محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز تعمیر ہوئیں، لیکن آزاد کشمیر میں آج بھی وہی سڑکیں موجود ہیں جو کئی دہائیاں قبل بنائی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے مانسہرہ سے مظفرآباد اور مظفرآباد سے میرپور تک دریائے جہلم کے ساتھ جدید موٹروے منصوبے کی منظوری دی تھی، جو آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے ایک منفرد منصوبہ تھا۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا تو علاقے میں سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا وسیع جال بچھ جاتا اور خوشحالی آتی۔
نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے کبھی آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں فرق نہیں کیا، کیونکہ آزاد کشمیر بھی ان کے لیے اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب یا ملک کا کوئی اور حصہ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بزرگ بھی کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، اس لیے کشمیر ان کے دل کے بہت قریب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے مظفرآباد کے لیے 10 گرین الیکٹرک بسیں جلد روانہ کی جائیں گی، جبکہ15 موبائل اسپتال بھی آزاد کشمیر بھیجے جائیں گے تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سابق وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی بعض مریضوں کو چارپائی پر اٹھا کر سڑک تک لانا پڑتا ہے اور کئی افراد علاج کی سہولت نہ ہونے کے باعث راستے میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے شروع کیے گئے منصوبے جاری رہتے تو آج آزاد کشمیر کی صورتحال مختلف ہوتی۔
نواز شریف نے موجودہ حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینے کے بجائے صرف نعرے بازی کی، جس سے ملک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو عوام نے دوبارہ موقع دیا تو تمام ادھورے منصوبے مکمل کیے جائیں گے اور آزاد کشمیر کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔
انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر دعا کی کہ مظفرآباد اور آزاد کشمیر ترقی کے میدان میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں سے بھی آگے نکلیں۔













منگل 21 جولائی 2026 

