چین کے صوبہ ہونان میں ایک شہری نے شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کے مقدمے سے بچنے کے لیے اپنی جعلی موت (Fake death)کا ایسا منصوبہ بنایا جس نے پولیس اور عوام دونوں کو حیران کر دیا، تاہم اس کا یہ ڈرامہ زیادہ دیر تک کامیاب نہ رہ سکا۔
چینی پولیس کے مطابق ’سی‘ نامی شخص کو حال ہی میں نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ بغیر لائسنس نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑا جا چکا تھا، تیسری بار گرفتاری کے بعد اسے خدشہ تھا کہ عدالت اسے جیل بھیج دے گی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے سزا سے بچنے کے لیے اپنے اہل خانہ کی مدد سے اپنی جعلی موت کا منصوبہ بنایا، اس مقصد کے لیے پہلے سے تابوت خریدا گیا، گھر میں ادویات کی خالی بوتلیں بکھیر دی گئیں اور ایسا ماحول بنایا گیا کہ بظاہر ادویات کی زیادہ مقدار لینے سے اس کی موت واقع ہوئی ہو۔
منصوبے کے تحت جنازے کے دوران ملزم کی والدہ اور دادی نے اس کے چہرے کو کپڑے سے ڈھانپ دیا اور پڑوسیوں کو بتایا کہ ادویات کے اثرات کے باعث اس کا چہرہ بری طرح متاثر ہو گیا ہے، اسی روز جلد بازی میں تدفین کا ڈرامہ بھی رچایا گیا، جبکہ ملزم خفیہ طور پر دوسرے صوبے فرار ہو گیا۔
تاہم پولیس کو متعدد مشکوک پہلوؤں نے تحقیقات پر مجبور کر دیا، حکام نے دیکھا کہ تابوت مبینہ موت سے پہلے ہی خریدا جا چکا تھا، نہ ایمبولینس کو بلایا گیا، نہ پولیس کو اطلاع دی گئی اور نہ ہی موت یا تدفین سے متعلق کوئی سرکاری ریکارڈ موجود تھا۔
بعد ازاں پڑوسیوں کی اطلاع اور سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے تصدیق ہوئی کہ ملزم زندہ ہے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔
عدالت نے ملزم کو پانچ ماہ قید اور 20 ہزار یوآن جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ اسے چھپانے اور حکام سے حقائق مخفی رکھنے کے الزام میں اس کی والدہ اور دادی کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔













ہفتہ 25 جولائی 2026 

