سابق بھارتی کرکٹر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج

Calender Icon اتوار 26 جولائی 2026

سابق بھارتی کرکٹر راجیش چوہان(Rajesh Chohan) مبینہ فراڈ کے الزام میں قانونی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق راجیش چوہان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو اسٹیل کمپنی میں ٹرانسپورٹ کا ٹھیکہ دلوانے کا وعدہ کرکے اس سے 15 لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کی۔

یہ پورا معاملہ گووند ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام پر کیے گئے ایک معاہدے سے جڑا ہوا ہے۔ دنکر وشوامترا نامی ایک شخص نے الزام لگایا ہے کہ راجیش چوہان نے خود کو ایک معروف بین الاقوامی کرکٹر بتا کر اور بڑے صنعت کاروں سے تعلقات کا حوالہ دے کر ان سے رابطہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹرانسپورٹ کمپنی کو ایک بڑی اسٹیل کمپنی سے لوہا اور دیگر سامان منتقل کرنے کا ٹھیکہ ملا ہوا ہے۔ انہوں نے اچھے منافع کا لالچ دے کر متاثرہ شخص کو کاروبار میں ٹرک لگانے اور شراکت دار بننے کی ترغیب دی۔

متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ راجیش چوہان نے انہیں کچھ دستاویزات دکھائیں جنہیں سچا سمجھ کر انہوں نے جولائی 2021 میں معاہدہ کر لیا اور 15 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم دو قسطوں میں بینک کے ذریعے منتقل کر دی۔

کچھ عرصے بعد جب راجیش چوہان نے تسلی بخش جواب دینا بند کر دیا تو متاثرہ شخص نے خود اسٹیل کمپنی سے رابطہ کیا۔ وہاں معلوم ہوا کہ راجیش چوہان یا ان کی کمپنی کو ایسا کوئی ٹھیکہ دیا ہی نہیں گیا تھا اور دکھائی گئی تمام دستاویزات جعلی تھیں۔

مزیدپڑھیں:انعم عزیر نے پاکستان کی پہلی 100کلومیٹر الٹرا میراتھون جیت کر ایک اور سنگ میل عبور کر لیا

عدالتی ریکارڈ کے مطابق دنکر وشوامترا نے پہلے موہن نگر پولیس اسٹیشن اور بعد ازاں ضلع درگ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو تحریری شکایات بھی دیں، تاہم مقدمہ درج نہ ہونے پر انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔

16 جولائی کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس ایشوریہ دیوان نے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے اپنے ابتدائی مشاہدے میں کہا کہ دستیاب مواد سے قابلِ دست اندازی جرم کا اشارہ ملتا ہے اور شکایات کے باوجود پولیس کی جانب سے کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالت کے مطابق بظاہر ایسے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شکایت کنندہ سے دھوکے سے رقم حاصل کی گئی، جس کی مکمل تفتیش ضروری ہے۔

دوسری جانب راجیش چوہان اس معاملے کو کاروباری تنازع قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل پی ٹی آئی سے گفتگو میں کہا تھا، ”شکایت کنندہ کی کچھ رقم پہلے ہی واپس کی جا چکی ہے، جبکہ باقی رقم کی ادائیگی ذاتی حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔“

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور اس مرحلے پر کسی بھی فریق کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت میں رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔