8 فروری کے انتخابات مسلم لیگ (ن) کے گلے کا کانٹا بن چکے ہیں، ثاقب بشیر

Calender Icon اتوار 2 اگست 2026

سینئر صحافی اور تجزیہ کار ثاقب بشیر(Saqib Bashir) نے ایم نیوز کے پروگرام “نیوز اینڈ ویوز” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مسلسل محنت کے باوجود حکومت اپنی بنیادی کارکردگی میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق عوام سے کیے گئے وعدوں اور عملی صورت حال میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔

پروگرام کے آغاز میں میزبان نے وزیراعظم شہباز شریف کی شبانہ روز کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ملک واقعی اس رفتار سے ترقی کر رہا ہے جس کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس پر ثاقب بشیر نے کہا کہ حکومت کی شبانہ روز سرگرمیاں تو نظر آتی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور حکومت وہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہوئی جن کی عوام کو توقع تھی۔

محسن نقوی کا اعتراف اور حکومتی کارکردگی

ثاقب بشیر نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی خود یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ریاستی نظام نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور مختلف اداروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق اگر ایک وفاقی وزیر خود اس قسم کی شکایت کر رہا ہے تو یہ حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ محسن نقوی انتخاب جیت کر کونسلر بھی نہیں بن سکتے، تاہم اس کے باوجود گزشتہ چار برسوں میں ملک کی تقریباً ہر اہم میٹنگ، ہر بڑے فیصلے اور ہر اہم انتظامی معاملے میں محسن نقوی نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

‘‘وفاقی کابینہ کے رکن نے حکومت پر چارج شیٹ عائد کی’’

تجزیہ کار کے مطابق اگر وزیراعظم شہباز شریف واقعی اپنی کابینہ کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں تو انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ان کی کابینہ کے ایک اہم رکن نے عملی طور پر حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر روزانہ 16 سے 18 گھنٹے کام کرنے کے باوجود نتائج حاصل نہیں ہو رہے تو اس کی وجوہات معلوم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق اگر وزیراعظم اس معاملے پر سنجیدہ مکالمہ بھی نہیں کرتے تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ حکومت ایک بڑے سیاسی سمجھوتے کے تحت چل رہی ہے۔

‘‘ووٹ کو عزت دو’’ سے موجودہ صورتحال تک

ثاقب بشیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ماضی میں “ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگایا، تاہم بعد ازاں عملی سیاست میں ایسے فیصلے کیے گئے جن سے اس بیانیے کی اہمیت کم ہوتی دکھائی دی۔ ان کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM) کی حکومت بننے کے بعد پنجاب کی نگران حکومت کی سربراہی بھی محسن نقوی کے پاس رہی۔

انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات پنجاب میں انہی کی نگرانی میں ہوئے اور انہی انتخابات کے حوالے سے سب سے زیادہ سوالات بھی پنجاب ہی میں اٹھائے گئے، تاہم مسلم لیگ (ن) نے اس معاملے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

متعدد اہم عہدوں پر تقرریاں

ثاقب بشیر نے کہا کہ انتخابات کے بعد محسن نقوی پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے چیئرمین بھی رہے، بعد ازاں سینیٹر منتخب ہوئے اور پھر وفاقی وزیر داخلہ کا قلمدان بھی سنبھالا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف اہم انتظامی اور حکومتی معاملات میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا، لیکن حکومت یا حکمران جماعت کی جانب سے ان کی حیثیت یا اختیارات پر کبھی سوال نہیں اٹھایا گیا۔

ایران۔امریکہ کشیدگی کے تناظر میں کردار

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ثاقب بشیر نے حالیہ علاقائی سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کامیابی قرار دیا جا رہا ہے تو عوام نے وزیر خارجہ کے بجائے محسن نقوی کو مختلف بین الاقوامی ملاقاتوں اور سرگرمیوں میں زیادہ متحرک دیکھا۔

مزیدپڑھیں:مظفرآباد ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) مضبوط دکھائی دے رہی ہے، مہاجرین نشستوں کا تنازع بھی اہم مسئلہ ہے: طارق سمیر

ان کے مطابق میڈیا میں بھی انہی کی موجودگی نمایاں رہی جبکہ وزیر خارجہ کا کردار نسبتاً کم دکھائی دیا۔

‘‘محسن نقوی حکومت کے طاقتور ترین فرد ہیں’’

ثاقب بشیر نے اپنی گفتگو میں دعویٰ کیا کہ موجودہ دور حکومت میں محسن نقوی ایک انتہائی بااثر شخصیت بن چکے ہیں اور حکومتی حلقوں میں ان پر تنقید کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض رہنماؤں، خصوصاً رانا ثناء اللہ، نے ان کے حوالے سے رائے دی، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

8 فروری کے انتخابات حکومت کے لیے سیاسی مسئلہ

تجزیہ کار کے مطابق 8 فروری 2024 کے انتخابات کا معاملہ اب بھی مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک بڑا سیاسی مسئلہ ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے کھل کر گفتگو کرنے سے گریز کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بھی حکومت کے مختلف معاملات میں نمایاں سیاسی فوائد حاصل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق چیئرمین سینیٹ، گورنر اور ڈپٹی اسپیکر سمیت کئی اہم آئینی و سیاسی مناصب پیپلز پارٹی کے پاس ہیں، جبکہ مختلف حکومتی فیصلوں میں بھی اس کا اثرورسوخ نمایاں ہے۔